بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

نیندسےبیداری کےوقت کپڑوں پرنجاست دیکھنا


سوال

ایک رات   میں اور  بیوی دونوں ساتھ سوئے تھے جب  ہم نیند سے بیدار ہوئےتو میرے کپڑوں پر تری لگی ہوئی تھی   اور مجھے خواب بھی یاد نہیں ہے میں نے بیوی سے پوچھا تو  وہ کہہ رہی تھی کہ میں بھی سوئی ہوئی تھی   تو کیا   خواب یاد نہ ہونے کی صورت میں بیداری کے وقت کپڑوں پر تری دیکھنے سے غسل واجب ہوگا یا نہیں؟

جواب

جب کوئی  شخص نیند سے بیدار ہوجائے، اور  اپنے کپڑوں پر تری محسوس کرے  اگر  اس تری کے منی ہونے کا یقین  ہو  تو چاہے خواب یاد ہو یا نہ ہو بہر حال  غسل واجب ہوگا،اگر منی یا مذی میں شک ہو اور خواب یاد نہ ہو   تو اس پر بھی  غسل واجب ہے ۔اور  اگر یقین ہو کہ ودی  یا مذی ہے یا مذی اور ودی میں  شک ہو لیکن خواب یاد نہ ہو تو غسل واجب نہیں ہوگا۔

 

"وإن استیقظ الرجل ووجد علی فراشه أو فخذہ بللا وھو یتذکر احتلاما إن تیقن أنه مني أو تیقن أنه مذی أو شک أنه مني أو مذي  فعلیه الغسل وإن تیقن أنه ودي لاغسل علیه وإن رأی بللا إلا أنه لم یتذکر الاحتلام فإن تیقن أنه ودي لا یجب الغسل وإن تیقن أنه مني یجب الغسل، وإن تيقن أنه مذي لايجب الغسل ، وإن شك أنه مني أو مذي قال أبو يوسف: لا يجب الغسل حتى يتيقن بالاحتلام وقالا يجب"۔(الفتاوی الهندية، الفصل الثالث في المعاني الموجبة للغسل،ج:1،ص:65)

"فیجب الغسل في سبع صور منها وهي ماإذا علم أنه مذی أو شک في الأولین ․․․․․ مع تذکر الاحتلام فیها أو علم أنه مني مطلقاً"۔(الدرالمختارمع ردالمحتار،كتاب الطهارة،ج:1،ص:301)


فتویٰ نمبر : 10289/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں