بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

مقیم بننے کے لیے پہلے دن کا ابتدائی اور آخری دن کا انتہائی وقت


سوال

 اگر کوئی شخص کسی دوسرے  شہر میں پہنچے  جو مسافت شرعی سے زائد ہو،اور وہاں پندرہ دن گزارنے کا ارادہ ہو ،تو  پندرہ دن پورے کرنے میں پہلے دن کی ابتداء اور آخری دن کی انتہاء کہاں تک ہو گی؟

جواب

واضح رہے کہ کسی مسافر شخص کا مقیم بننے کے لیے ضروری ہے کہ مسافت شرعی سے زائد کسی جگہ میں مسلسل پندرہ دن گزارنے کی نیت کی ہو،اور پندرہ دن گزارنے  سے مراد پندرہ راتیں گزارنا ہے،  اس لیے کہ اقامت میں معتبر کسی جگہ میں رات بسر کرنے  کی نیت کرنا  ہے۔لہذا اگر مسافت شرعی سے زائد کسی جگہ میں پندرہ راتیں پوری ہو رہی ہو ں تو یہ آدمی مقیم شمار ہو کر تمام نمازیں پوری ادا  کرے گا،اگر چہ دن کے اعتبار سے کچھ وقت کم ہومگر اعتبار رات کا کیا جائے گا ۔

 

‌ولو ‌نوى ‌الإقامة ‌خمسة عشر يوما بقريتين النهار في إحداهما والليل في الأخرى يصير مقيما إذا دخل التي نوى البيتوتة فيها، هكذا في محيط السرخسي.(الفتاوی الہندیۃ،کتاب الصلاۃ،ج:1ص:140)

فإن نوى المسافر أن يقيم بالليالي في أحد الموضعين ويخرج بالنهار إلى الموضع الآخر ‌فإن ‌دخل ‌أولا الموضع الذي نوى المقام فيه بالنهار لا يصير مقيما، وإن دخل الموضع الذي نوى الإقامة فيه بالليالي يصير مقيما۔(بدائع الصنائع،کتاب الصلاۃ،ج:1ص:98)

 (قوله لا بمكة ومنى) أي لو نوى الإقامة بمكة خمسة عشر يوما فإنه لا يتم الصلاة۔۔۔ إلا إذا نوى أن يقيم بالليل في أحدهما فيصير مقيما بدخوله فيه؛ لأن ‌إقامة ‌المرء ‌تضاف ‌إلى ‌مبيته۔(البحرالرائق،کتاب الصلاۃ،ج:2ص:143)


فتویٰ نمبر : 10307/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں