بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

زکوۃ کے لیے علیحدہ کیے گئے پیسوں کو استعمال کرنا


سوال

اگر کوئی شخص زکوٰۃ کے لیے علیحدہ کیے گئے پیسوں کو بوقت ضرورت استعمال کرے،تو کیا اس کا استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں ؟

جواب

زکوٰۃ کی نیت سے الگ کیے گئے پیسوں کو استعمال  کرنا جائز ہے، کیونکہ محض الگ کرنے سے زکوٰۃ ادا نہیں ہوتی، اور ایسے پیسے  جب تک کسی مستحق زکوٰۃ کو مالک بنا کر نہ  دیئے جائیں، وہ مالک کی ملکیت میں ہی ہوتے ہیں، اس لیے  مالک  جہاں چاہے خرچ کرسکتا ہے۔

 

إذا دفع الزکوة إلى الفقير لايتم الدفع مالم يقبضها أو يقبضها للفقير من له ولاية عليه نحو الأب.(الفتاوى الهندية، كتاب الزكوة، ج:1، ص:190)

رجل وجب عليه زکوة المائتين فأفرز خمسة من ماله ثم ضاعت منه تلک الخمسة لا تسقط عنه الزکوة ولو مات صاحب المال بعد أن أفرز الخمسة کانت الخمسة ميراثا عنه.(الفتاوى الخانية على هامش الهندية، كتاب الزكوة، ج:1، ص:243)


فتویٰ نمبر : 10301/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں