بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

روزے کی حالت میں استمناء بالید


سوال

اگر کوئی شخص  رمضان المبارك ميں روزے كی حالت میں استمناء بالید کرےتو کیااس سے  قضا لازم ہوگی یا قضاوکفارہ  دونوں لازم ہوں گے؟

جواب

 استمناءبالید(مشت زنی) ایک ناجائزعمل ہے رمضان میں روزے کی حالت میں اس کی قباحت مزید  زیادہ ہو جاتی ہے۔اگر روزہ دار رمضان میں  مشت زنی کرے یعنی ہاتھ کے ذریعے منی کا اخراج کرے تو اس سےاس کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے  اور روزے کی قضا لازم  ہوجاتی ہے،البتہ کفارہ  واجب نہیں ہوتا۔

 

قوله: (وكذا الاستمناء بالكف) أي في كونه لا يفسد لكن هذا إذا لم ينزل أما إذا أنزل فعليه القضاء كما سيصرح به وهو المختار(ردالمحتار،كتاب الصوم، باب ما يفسد الصوم وما لا يفسده،مطلب فی حکم الاستمناء بالکف،ج:3،ص:371)


فتویٰ نمبر : 10302/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں