بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

غلطی سے کسی گناہ کا اقرار کرنا


سوال

کوئی شخص اگر گناہ کا اقرار غلطی سے کر لے، دراصل اس نے وہ گناہ کیا ہی نہ ہو تو  کیا غلطی سے اقرار پر  اس کے کھاتے میں وہ گناہ لکھ  لیا جاتا ہے؟

جواب

 جب کسی مسلمان سے  گناہ  سر زد ہو جائے اور اس پر  وہ پیشمان ہو کر  اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اقرار و اعتراف کر کے بخشش طلب کرے تو اللہ تعالیٰ معاف فرماتا ہے  ،لیکن اگر کسی نے گناہ کیا ہی نہ  ہواور غلطی سے  اقرار کرے تو اس کے اعمال نامہ میں وہ گناہ نہیں لکھا جاتا ہے۔

 

قال الله تعالىٰ:﴿مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا وَمَنْ جَاءَ بِالسَّيِّئَةِ فَلَا يُجْزَى إِلَّا مِثْلَهَا وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ﴾(الأنعام:160) 


فتویٰ نمبر : 6096/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں