بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

الفاظ کنائی سے طلاق کا حکم


سوال

میں نےاپنی بیوی سے کہا ہے کہ اگرتم نے اپنی بہن سے بات کی تو میرا آپکے ساتھ نکاح ختم ہوجائیگا اور میری نیت بھی طلاق کی تھی اب پوچھنا یہ ہےکہ اگروہ اپنی بہن سے بات کرلے تو کیا اس سے نکاح ختم ہوجائیگا اوراگرنکاح ختم ہوجائے تو تجدید نکاح کے بعد اگر بیوی بہن کے ساتھ دوبارہ بات کرلے تو کیا دوبارہ نکاح ختم ہوجائیگا یا نہیں؟ برائے کرم رہنمائی فرمائے۔

جواب

واضح رہے کہ طلاق صریحی میں نیت کا اعتبار نہیں ہوتا،جب کہ کنائی الفاظ میں نیت یا دلالت الحال کا  اعتبارہوتا ہےچنانچہ جب کوئی کنائی الفاظ سے طلاق کی تعلیق کرے اور نیت بھی طلاق کی ہو تو شرط موجود ہونے سےطلاق واقع ہوجائیگی اوریہ شرط ایک مرتبہ موجود ہونے سے ختم ہوجائیگی ۔

صورت مسئولہ میں سائل کا بیوی کو یہ کہنا کہ "اگر تم نے اپنی بہن سے بات کی تو میرا آپکے ساتھ نکاح ختم ہوجائیگا"یہ کنائی الفاظ ہیں  اور نیت بھی طلاق کی ہے ،لہذا  بیوی کا بہن کے ساتھ بات کرنے سے ایک طلاق بائن واقع ہوجائیگی،اور تجدید نکاح کے بعد دوبارہ  بیوی بہن کے ساتھ بات کرےگی توطلاق واقع نہ ہوگی۔

 

ولو قال لها: لا نكاح بيني وبينك، أو قال: لم يبق بيني وبينك نكاح، يقع الطلاق إذا نوى۔(الفتاوى الهندية ،کتاب الطلاق، ج: 1، ص: 375)

ألفاظ الشرط إن وإذا وإذما وكل وكلما ومتى ومتى ما ففي هذه الألفاظ إذا وجد الشرط انحلت اليمين وانتهت لأنها لاتقتضي ‌العموم ‌والتكرار فبوجود الفعل مرة تم الشرط وانحلت اليمين فلا يتحقق الحنث بعده إلا في كلما لأنها توجب عموم الأفعال فإذا كان الجزاء الطلاق والشرط بكلمة كلما يتكرر الطلاق بتكرار الحنث حتى يستوفي طلاق الملك الذي حلف عليه فإن تزوجها بعد زوج آخر وتكرر الشرط لم يحنث عندنا كذا في الكافي.( الفتاوى الهندية،الفصل الاول في الفاظ الشرط،ج:1،ص:415)


فتویٰ نمبر : 7101/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں