بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

مقروض بھائی کو زکوۃ دینا


سوال

میرےبھائی  پر بہت زیادہ  قرضہ  ہے،اور اس کی آمدنی  بھی اتنی نہیں  کہ وہ  قرضہ ادا کر سکے،تو کیا میں اس کو اپنی زکوۃ  دے سکتا ہوں ؟

جواب

واضح رہے کہ  جس شخص پر اتنا قرض ہو کہ اس کی ادائیگی سے اس کا موجودہ مال نصاب سے کم رہ جاتا ہو یا ختم ہوجاتا ہو  تو اس کو زکوۃ دینا جائز ہے،نيز بھائی کو زکوۃ دے سکتے ہیں ۔

 لہذاصورت مسئولہ کے مطابق اگر سائل کا بھائی مقروض ہو  اور اس کے ساتھ اتنا مال نہ ہو کہ قرض کی ادائیگی کے بعد نصاب تک پہنچ جاتا ہو تو اس کو زکوۃ دینا جائز ہے۔

 

قال الله تعالى: إنما الصدقات للفقراء والمساكين والعاملين عليها والمؤلفة قلوبهم وفي الرقاب ‌والغارمين وفي سبيل الله وابن السبيل فريضة من الله والله عليم حكيم.(سورة التوبة،أيةنمبر: 60)

ولا يدفع المزكي زكوة ماله إلى أبيه ، وجده ، وإن علا ، ولا إلى ولده ، وولد ولده ، وإن سفل .(الهدايه،كتاب الزكوة،باب من يجوز دفع الزكوة اليه و من لا يجوز،ج:1،ص:223)


فتویٰ نمبر : 10291/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں