بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

مسجد کے لیے وقف شدہ قرآن مدرسہ میں استعمال کرنا


سوال

مسجد کے لیے وقف شدہ قرآن مدرسہ میں استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ وقف میں واقف کی شرط کی رعایت رکھنا ضروری ہے۔ لہذا اگر کوئی چیز مسجد کے لئے وقف ہو  تو وہ  مسجد ہی میں استعمال ہوگی، کسی دوسرے مصرف میں استعمال کرنا جائز نہیں۔

لہذا صورت مسئولہ کے مطابق مسجد کے لیے وقف شدہ قرآن کو مدرسہ میں استعمال کرنا  جائز نہیں۔

 

(قوله: ففي جواز النقل تردد) الذي تحصل من كلامه أنه ‌إذا ‌وقف ‌كتبا ‌وعين ‌موضعها فإن وقفها على أهل ذلك الموضع، لم يجز نقلها منه لا لهم ولا لغيرهم.(ردالمحتار على الدرالمختار، كتاب الوقف، مطلب في وقف المنقول قصدا،ج:4،ص:366)

مراعاة غرض الواقفين واجبة.(رد المحتار علی الدر المختار،ج:6،ص:665)


فتویٰ نمبر : 6084/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں