بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

سردی کے خوف سے غسل کی بجائے تیمم کرنا


سوال

ہم پہاڑی علاقے میں رہتے ہیں    یہاں سردی زیادہ ہوتی ہے ٹھنڈا پانی استعمال کرنا مشکل ہوتا ہے صحت مند آدمی  ٹھنڈا پانی استعمال کرنے پر قادر ہوتا ہے لیکن بیمار آدمی اس کےاستعمال سے عاجز ہوتا ہے ، تو کیا بیماری کی وجہ سے  جو غسل پر قادر نہ ہو لیکن وضو کرنے پر قادر ہو ،تو  ایسی صورت میں وہ شخص  وضو اور تیمم دونوں کرے گایا صرف تیمم کرکے نماز پڑھ سکتا ہے؟

جواب

  واضح رہے کہ اگر کوئی شخص کسی عذر مثلا بیماری وغیرہ کی وجہ سے پانی کے استعمال پر قادر نہ ہو یعنی پانی استعمال کرنے کی صورت میں کسی عضو کے ضائع  ہونے یا بیماری کی زیادتی کا اندیشہ ہو تو ایسی صورت میں متبادل کے طور پر تیمم کرنے کی اجازت ہے ،اسی طرح اگر کوئی شخص کسی عذر کی وجہ سے غسل کرنے پر قادر نہ ہو تو وہ بھی تیمم کرے گا۔

صورت مسئولہ کے مطابق  اگر یقینی طور پر ٹھنڈے پانی سے  غسل کرنے کی صورت میں بیماری  کے بڑھنے کا اندیشہ ہو  تو متبادل کے طور  پرتیمم کرنے کی گنجائش ہے ،اور وضو  کرنے کی ضرورت نہیں ۔

 

"وکذا لو کان صحیحا خاف حدوث مرض ۔۔۔ بغلبۃ ظن أي عن أمارة أو تجربة أو قول حاذق مسلم إخبار طبيب حاذق مسلم غير ظاهر الفسق"۔(رد المحتار علی الدر المختار،كتاب الطهارة،باب  التيمم، ج:1، ص:397)

"ولو كان يجد الماء إلا أنه مريض يخاف إن استعمل الماء اشتد مرضه أو أبطأ برءه تيمم"۔(الفتاوی الهندية، كتاب الطهارة، باب التيمم، الفصل الأول ج:1، ص:81)

"ولو كان مع الجنب ما يكفي للوضوء يتيمم ولا يجب التوضؤ"۔(الفتاوی الهندية ،كتاب الطهارة،باب التيمم،  الفصل الثالث، ج:1،ص:84)


فتویٰ نمبر : 10290/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں