بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 28/10/2026

دارالافتاء

 

حرمت مصاہرت میں شک ہونا


سوال

میں نےسال 2020 میں خالہ کو موٹرسائیکل پر بٹھا کر ڈاکٹر کے پاس لے گیا تھا،اور وہ میرے کندھے پرسہارے کےلیے ہاتھ رکھی ہوئی تھی، میرےشرٹ کا کپڑا بھی موٹا تھا اور کاندھے پر دوہرا کپڑا تھا شہوت ہونے یا نہ ہونے کےبارےمیں کچھ یاد نہیں ہے،حرارت محسوس ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں بھی کچھ یاد نہیں،لیکن غالب گمان یہ ہے کہ شہوت نہیں تھی اور موٹرسائیکل چلاتے ہوئے شہوت ہونا ممکن بھی نہیں ہے، کیوں کہ پورا دھیان راستہ پر رہتا ہے۔ میرا رشتہ خالہ کی بیٹی (آمنہ)سے لگا ہوا تھا ،لیکن ہمیں شک اور وسوسہ کی وجہ سے رشتہ سے منع کر دیے گئےتھے،کہ کہیں حرمتِ مصاہرت ثابت ہو گئی ہوگی؟لیکن ایسا نہیں تھا،ہم بعد میں کئی مفتیان کرام اور دارالافتاء سے پورا حال دریافت كرکے فتویٰ لے چکے ہیں،ان کے قول کے مطابق خالہ سے حرمتِ مصاہرت ثابت نہیں ہوئی ہے،اورخالہ کی بیٹی سے نکاح کر سکتے ہیں،لیکن اُس دوران جب مجھے حرمتِ مصاہرت کا شک اور وسوسہ تھا تو میں  نےاُس دوران سوچا کہ خالہ کی بیٹی سے نہیں ہو سکتا ہے تو خالہ کی بھتیجی سے نکاح کر لیتا ہوں،تب مجھے لگا کہ کہیں خالہ  کی بھتیجی اصول و فروع میں داخل ہے،تب ہم  نےایک دارالافتاء سے سوال پوچھا اور سوال میں ہم نے  یہ لکھا تھا کہ میں نے  ایک عورت کو شہوت سے چھوا اور اب اُس کی بھتیجی سے نکاح کرنا چاہتا ہوں،مجھے شہوت کا يقین نہیں تھا،بس مسئلہ پوچھنےمیں ہم اقرار کر بیٹھے۔اب میری خالہ سب کو جب سے فتویٰ کاپتہ چل گیا ہے کہ خالہ سے حرمتِ مصاہرت ثابت نہیں ہوئی ہے،اب میرا نکاح پھر سے خالہ کی بیٹی سے طے ہو گیا ہے۔ پوچھنا یہ تھا کہ ہم شک اور وسوسہ میں تھے اور ہم نےمسئلہ پوچھنے کی خاطر شہوت کے ہونے کا اقرار کر بیٹھے تھے،کیا صرف جھوٹے اقرار سے بھی حرمتِ مصاہرت ثابت ہو جاتی ہے؟کیوں کہ میں نے دارالعلوم دیوبند کے فتویٰ میں دیکھا ہے کہ ایک شخص اپنی بیوی سے مذاق میں کہے کہ میں نے تمہاری ماں کے ساتھ زنا کیا تو دیوبند والوں نے فتویٰ دیا کہ مذاق میں بھی یہ بولنے سے اقرار کرنے سے حرمتِ مصاہرت ثابت ہو جاتی ہے،پورا مسئلہ یہیں اٹکا ہوا ہے کہ ہم خالہ کی بھتیجی سے نکاح کرنے کے لیے مسئلہ پوچھنے میں شہوت کا اقرار کر بیٹھے تھے،جب کہ مجھے نہ شہوت کا یقین تھا اور نہ حرارت کا ۔آپ سےجتنا جلدی ہو سکے جواب دے دیجیے۔   

جواب

اس میں کوئی شک نہیں کہ جب کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ  زنا کرے ،یا اس کو شہوت کے ساتھ چھو لے،یا  اس کے اندام نہانی کو شہوت کے ساتھ دیکھ لے تو اس سے حرمت مصاہرت ثابت ہوجاتی ہے،جس سے دونوں کے اصول و فروع ایک دوسرے پر  ہمیشہ کے لیے حرام ہوجاتےہیں،لیکن یہ اس وقت جب شہوت کے ساتھ چھونا یا دیکھنایقینی ہو۔کیونکہ شہوت کےبغیر چھونےیا دیکھنے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی۔ اور فقہاء کرام کے نزدیک شہوت کےساتھ چھونے کا مطلب یہ ہےکہ  دونوں کےدرمیان کوئی موٹا کپڑا حائل نہ ہو،عورت کی عمر اتنی ہو کہ جس کی طر ف دل میں میلان پیداہوتا ہو،اور اس کو چھونے سے عضومخصوص میں انتشارپیدا ہویا انتشار میں اضافہ ہو۔ نیز اگر کسی نے شہوت کے ساتھ عورت کو چھوا ہو لیکن درمیان میں موٹےکپڑے کی وجہ سے حرارت محسوس نہ ہوئی ہو تو اس سے حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوتی ہے۔اور اس صورت میں کیے گئے غلط اقرار کا  بھی کوئی اعتبار نہیں ہوگا۔

لہٰذا صورت مسئولہ کے مطابق اگر واقعی صورت حال یہ ہوکہ سائل اور اس کی خالہ میں سے کسی ایک نے بھی دوسرے کو  شہوت کےساتھ نہیں چھوا،اور موٹا کپڑا بھی حائل تھا تواس سے حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوئی۔ لہٰذاسائل کانکاح خالہ کی بیٹی سے بھی جائز ہے اور خالہ کی  بھتیجی  یعنی ماموں کی بیٹی سے بھی  نکاح جائز ہے،کیونکہ  وہ توخالہ کے فروع میں بھی نہیں آتی۔

دارالعلوم دیوبند کے فتویٰ میں اقرارِزنا کا ذکر ہے اورظاہر ہے کہ جب کوئی کسی بات یا چیز کا اقرار کرے تو اس کا اقرار  قضاءًمعتبرہوتاہے،لیکن اگر کوئی  جھوٹااقرار کرے تو دیانتًا حرمت ثابت نہیں ہوگی  ۔

 

 وكما ثبتت هذه الحرمة بالوطء تثبت بالمسّ والتقبيل والنظر إلى الفرج بشهوة سواء كان بنكاح أو ملك أو فجور عندنا إذا كان المحل مشتهاه، ولا تثبت هذه الحرمة بالنظر إلى سائر الأعضاء وإن كان عن شهوة وحدالشهوة: أن تنتشر آلته إليه بالنظر إلى الفرج أو المس إذا لم يكن منتشراً قبل هذا، وإذا كان منتشراً فإن كان يزداد قوة و..... بالنظر والمس،كان ذلك عن شهوة وما (لا) فلا، وهذا إذا كان شاباً قادراً على الجماع.... المسّ إنما يوجب حرمة المصاهرة إذا لم يكن بينهما ثوب، أما إذا كان بينهما ثوب فإن كان صفيقاً لا يجد حرارة الممسوس لا تثبت حرمة المصاهرة، وإن انتشرت آلته إليهابذلك،وإن كان رقيقاً بحيث تصل حرارة الممسوس إلى يده تثبت حرمة المصاهرة.( المحيط البرهاني في الفقه النعماني،کتاب النکاح،الفصل الثالث عشر فی بيان أسباب التحريم،ج:3،ص:182)

لو أقر بحرمة المصاهرة يؤاخذ به ويفرق بينهما وكذلك إذا أضاف ذلك إلى ما قبل النكاح بأن قال لامرأته:كنت جامعت أمك قبل نكاحك يؤاخذ به ويفرق بينهما ولكن لا يصدق في حق المهر حتى يجب المسمى دون العقد، والإصرار على هذا الإقرار ليس بشرط حتى لو رجع عن ذلك وقال: كذبت فالقاضي لا يصدقه ولكن فيما بينه وبين الله تعالى إن كان كاذبا فيما أقر لا تحرم عليه امرأته...............و فى المس و النظر إلى الفرج لا يفتى بالحرمة إلا إذا تبين أنه فعل بشهوة؛لأن الأصل فى التقبيل الشهوة،بخلاف المس و النظر،كذا فى المحيط.هذا إذا كان المس على غير الفرج،وأما إذا كان على الفرج فلا يصدق أيضا.(الفتاوى الهندية،كتاب النكاح،في بيان المحرمات،ج:1،ص:339)

اليقين لا يزول بالشك ۔(الاشباه والنظائرلابن نجيم،القاعدةالثالثة،ص:27)

و فى المس ما لم يعلم أنه كان عن شهوة لا تثبت الحرمة..............وقال عامةالعلماءالشهوةأن يميل قلبه إليها ويشتهي أن يواقعها۔(فتاوی قاضی خان،کتاب النکاح،باب فی بيان المحرمات،ج:1،ص:317)


فتویٰ نمبر : 7116/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں