بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 21/10/2026 |
دارالافتاء
ایک مجلس میں متعدد بار آیت سجدہ سننا
سوال
میں محلہ کے بچوں کو قرآن پڑھاتا ہوں ان میں کچھ ناظرہ اور کچھ حفظ والے ہیں ، سبق سنتے وقت کبھی ایک آیت متعدد فعہ آ جاتی ہے اور کبھی مختلف آیت ہوتی ہے ، کیا مجھ پر ایک سجدہ تلاوت واجب ہو گا یا متعدد سجدے واجب ہوں گے؟
جواب
اگر مجلس ایک ہو تو آیت سجدہ کے تکرار سے صرف ایک سجدہ واجب ہو گا ۔ اگرچہ ایک دفعہ خود پڑھے اور دوسری دفعہ کسی اور سے سنے ۔لیکن مجلس یا آیت بدل جانے سے سجدہ بھی مکرر واجب ہو گا ۔ نیز نا بالغ بچوں پر سجدہ تلاوت واجب نہیں ہے خواہ وہ خود تلاوت کریں یا کسی اور سے آیت سجدہ سن لیں۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگر سائل متعدد بچوں سے ایک ہی آیت متعددد فعہ سنتا ہو اور مجلس بھی ایک ہوتو اس پر ایک ہی سجدہ واجب ہوگا، اور اگر متعدد بچوں سے مختلف آیات سنتا ہو تو اس پر مکرر سجدے واجب ہوں گے۔
وأشار إلى أنه متى اتحدت الآية والمجلس لا يتكرر الوجوب وإن اجتمع التلاوة والسماع ولو من جماعة.( ردالمحتار على الدرالمختار،كتاب الصلوة،باب سجود التلاوة،ج:٢،ص:٥٩١)
الأصل أنه لا يتكرر الوجوب إلا بأحد أمور ثلاثة: اختلاف التلاوة أو السماع أو المجلس.
أما الأولان: فالمراد بهما اختلاف المتلو والمسموع حتى لو تلا سجدات القرآن كلها أو سمعها في مجلس أو مجالس وجبت كلها... قوله بشرط اتحاد الآية والمجلس أي بأن يكون المكرر آية واحدة في مجلس واحد، فلو تلا آيتين في مجلس واحد أو آية واحدة في مجلسين فلا تداخل ولم يشترط اتحاد السماع لأنه إنما يكون باتحاد المسموع فيغني عنه اشتراط اتحاد الآية.( ردالمحتار على الدر المختار ، باب سجود التلاوة،ج:٢،ص:١١٥)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 328
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 244
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 892
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 574
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 49
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 59
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 476
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 176
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 410
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 152
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 62
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 322
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1192
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں