بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 19/10/2026

دارالافتاء

 

وضو ٹوٹ جانےكے ظن غالب کے با وجود نماز کی تکمیل


سوال

اگر کسی شخص کو دوران نماز مذی نکلنے کا ظن غالب ہو گیا مگرمسئلہ معلوم نہ ہونے کی وجہ سےاس کے باوجود نمازمکمل کرلی جبکہ بعد میں دیکھنے سے یہ یقینی  طور پرمعلوم ہوا کہ مذی کے قطرے نکل کرپھیل چکےہیں ،آیا  اب اس سے نکاح پر کوئی اثر پڑےگا یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ سبیلین  سےکوئی چیز نکلے تو وضو ٹوٹ جاتا ہے چاہے وہ بول وبراز ہو یا مذی یا ودی ہو،اورمذی   وہ سفید گاڑھا پانی ہوتاہے جو شہوت کے وقت نکلتا ہے ، مذی کے نکلنے سے اگر چہ غسل واجب نہیں ہوتا ،لیکن وضو  ٹوٹ جاتا ہے وضو ٹوٹ جانے کے بعد ایسی حالت میں نماز پڑھنا گناہ ہے البتہ استہزا و مذاق کے طور پر نہ ہو تو اس سے ایمان اور نکاح پر فرق نہیں پڑتا،ہاں اس نماز کا اعادہ ضروری ہے۔

لہذا صو رت مسئو لہ میں اگرسائل کو یہ ظن غالب ہو گیا تھا کہ مذی نکل کر پھیل چکی ہے  لیکن مسئلہ نہ جا ننے کی وجہ سےاس کے باوجود اس نے نماز مکمل کرلی ،تو اس   سےگنہگار ہوا لیکن اس سے نکاح پر کو ئی اثر نہیں پڑا۔

 

 وعن ابن عمر رضي الله عنهما، قال: قال رسول اللَّه صلى الله عليه وسلم (لا تقبل صلاة بغير طهور)قال صاحب المرقاۃ، ولو صلى بغير طهارة متعمدا يكفر لأن ذلك يحرم لكل حال فيكون مستخفا اهـ .،والظاهر أنه إذا قصد به حرمة الوقت لا يكفر لأن المسألة اجتهادية ولأنه لا يصدق عليه أنه مستخف، بخلاف ما إذا صلى من غير طهارة عمدا لا لهذا القصد فإنه يكفر لأنه مستخف بالشرع حينئذ، ولو صلى بلا طهارة حياء أو رياء أو كسلا فهل يكون مستخفا أم لا؟ محل بحث، ‌والأظهر ‌في ‌المستحيي ‌أن ‌لا ‌يكون ‌مستخفا ‌بخلاف ‌الآخرين.(مرقاۃ المفاتیح،کتاب الطھارۃ،باب ما یوجب الوضوء،الفصل الاول،رقم الحدیث،30،ج:2،ص:31)


فتویٰ نمبر : 10348/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں