بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

شیئرز کا کاروبار کرنا


سوال

اگر کوئی شخص P.S.O  یا F.F.C (فوجی فرٹیلائزر) کمپنی کے شیئرز خریدنا چاہے تو،B.M.A کے ذریعے  ان کمپنی کے شیئرز خریدتا ہے،جس کی حیثیت بروکر کی ہے،پھر  جب ہم کسی کمپنی کے شیئرز خرید لیں تو ہمارے پاس دو قسم کے اختیارات ہوتے ہیں ،ایک gin  capital  جس میں یومیہ کی بنیاد پرB.M.A  کمپنی ہمارے شیئرز  فروخت کرتے ہیں اور جو نفع حاصل ہو وہ ملتا ہے،دوسرا اختیار deviden کے ذریعے نفع کمانے کاہے،اس کا طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ جتنے شیئرز ہم نے خریدے ہوتے ہیں،کمپنی ہر تین ماہ بعد اس کے تناسب سے ہمیں نفع  دیتی ہے،تو کیا اس طرح شیئر ز خریدنا اور کاروبار کرنا جائز ہے؟

جواب

واضح رہے  کہ کسی بھی کمپنی کے شیئرز کا کاروبار کرتے ہوئے  درج ذیل چیزوں کی رعایت رکھنا اہم  ہے:کہ جس کمپنی کے شیئرز خریدے جارہے ہوں اس کا اصل کاروبار حلا ل ہو ،کمپنی کے منجمد اثاثے وجود میں آچکے ہوں  صرف نقدی کی شکل میں نہ ہوں،نیز کمپنی کا اصل کاربار تو حلال ہو لیکن سودی لین دین بھی کرتی ہو،مثلا،بینک سے سودی قرضہ حاصل کرتی ہو یا اضافی رقم سودی کھاتے میں جمع کرتی ہو تو ایسی صورت میں اس کمپنی کے شیئرز خریدنا دو شرطوں کے ساتھ جائز ہے، پہلی شرط یہ ہے کہ وہ اپنی بس کے مطابق سود کے خلاف آواز اٹھائے اور سالانہ میٹنگ میں اظہار کرے  کہ ہم سودی لین دین پر راضی نہیں ہیں ، لہذا اس کو بند کیا جائے ۔دوسری شرط یہ ہے آمدنی کا جو حصہ سودی کھاتے میں رقم جمع کر کے حاصل کیا گیا ہو، وہ بلانیت ثواب صدقہ  کیا جائے۔‌

صورت مسئولہ کے مطابق اگر  P.S.O  یا ٖF.F.C  کمپنی  مذکورہ بالا شرائط کی رعایت کے ساتھ کاروبار کریں،  تو ایسی صورت میں ان کمپنیز کے شیئرز B.M.A   کے ذریعے خریدنا اور اس کے بعد اس کے ساتھ  کیپٹل گین،یا ڈیوڈن میں سے  کسی ایک طریقہ سے کاروبار  کرنا جائز ہے۔

 

وبطل ‌بيع ‌مال ‌غير ‌متقوم كخمر وخنزير فإن المتقوم هو المال المباح الانتفاع به شرعا۔( رد المحتار على الدر المختار، ‌‌باب البيع الفاسد، مطلب في تعريف المال، ج:7، ص:235)

إذا ‌دفع ‌المسلم إلى النصراني مالا مضاربة بالنصف فهو جائز إلا أنه مكروه، فإن اتجر في الخمر والخنزير فربح جاز على المضاربة في قول أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - وينبغي للمسلم أن يتصدق بحصته من الربح۔( الفتاوى الهندية، كتاب المضاربة، الباب الثاني والعشرون في المضاربة بين أهل الإسلام وأهل الكفر، ج:4، ص:333)


فتویٰ نمبر : 3683/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں