بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

زندگی میں قبر تیار کرنا


سوال

آج کل قبرستانوں  میں   میت کے لیے فی الفور قبر   کھودنے کے لیے جگہ  ملنا کافی مشکل ہو گی ہے،بہت ڈھونڈنی پڑتی ہے اور منت سماجت کرنی پڑتی ہے ،اور اس وقت یہ کام کرنا مشکل بھی ہوتا ہے ،تو کیا کوئی شخص اس ضرورت کو سامنے رکھتے ہوئے  اپنے لیے زندگی میں ہی اپنی قبر تیار کر لے،  تو کیا یہ جائز ہو گا؟

جواب

واضح رہے کہ کوئی شخص اپنی ذاتی اور مملوکہ زمین میں اپنے لیے  زندگی میں  قبر تیار کر سکتا ہے،یا ایسی زمین جو کسی دوسرے شخص کی مملوکہ  ہو تو  مالک کی اجازت سے بھی اس  کی زمین میں اپنے لیے قبر تیار کی جاسکتی ہے،البتہ ایسی زمین جو کسی شخص کی مملوکہ نہ ہو بلکہ  کسی فرد  یا حکومت کی طرف سے  قبرستان کے لیے وقف ہو ، تو اس میں کسی   شخص کے لیے اپنی زندگی میں اپنے لیے قبر تیار کر جائز نہیں۔

 

وذلك ‌لأن ‌المقابر ‌وقف ‌من ‌أوقاف ‌المسلمين لدفن موتاهم لا يجوز لأحد أن يملكها۔(عمدۃ القاری،باب الصلاة في مرابض الغنم،ج:4ص:179)

ويحفر قبراً لنفسه، وقيل: يكره؛ والذي ينبغي أن لايكره تهيئة نحو الكفن بخلاف القبر.(قوله: ويحفر قبراً لنفسه) في بعض النسخ: وبحفر قبر لنفسه، على أن لفظة حفر مصدر مجرور بالباء مضاف إلى قبر: أي ولا بأس به. وفي التتارخانية: لا بأس به، ويؤجر عليه، هكذا عمل عمر بن عبد العزيز والربيع بن خيثم وغيرهما.(ردالمحتار،باب صلاۃ الجنازۃ،ج:2ص:244)

ومن حفر قبراً لنفسه قبل موته فلا بأس به ویؤجر علیه، هكذا عمل عمر بن عبد العزیز والربیع بن خیثم وغیرهم۔(الفتاوی التاتارخانیة،کتاب الصلاۃ،ج:3ص:76)


فتویٰ نمبر : 6125/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں