بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

مستقبل میں طلاق کی دھمکی سے طلاق کا حکم


سوال

میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ "اگر آپ نے میری طرف ٹیڑھی نظر سے دیکھا ،تو میں آپ کو طلاق دے دونگا" اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا اس سے طلاق واقع ہو تی ہے یا نہیں؟ اور بیوی کا کہنا ہے کہ آپ نے یہ الفاظ تین دفعہ کہے ہیں۔

جواب

واضح رہے کہ طلاق ماضی یا حال پر دلالت کر نے والے الفاظ کے ساتھ واقع ہو تی ہے ۔جن الفاظ میں صرف مستقبل میں طلاق دینے کی دھمکی ہو یا مستقبل میں طلاق دینے کے عزم کا اظہار ہو تو ان سے طلاق واقع نہیں ہو تی۔

لہذا صورت مسئولہ میں اگر شوہر نے بیوی کو یہ الفاظ کہے ہوں کہ" اگرآپ نے میری طرف ٹیڑھی نظر سے دیکھا تو میں آپ کو طلاق دونگا" تو یہ الفاظ چونکہ اردو میں صرف مستقبل کے لیے  استعمال ہو تے ہیں، اس لیے ان سے صرف ارادہ طلاق کا اظہار ہو تا ہے، لہذااگر یہ شرط واقع ہو جائے تب بھی طلاق واقع نہیں ہو گی، چنانچہ بیوی بدستوراس کے نکاح میں رہے گی۔

 

صيغة المضارع لا يقع بها الطلاق إلا إذا غلب في الحال. (الفتاوی تنقيح الحامدية، كتاب الطلاق،ج: 1، ص: 38 )

في المحيط لو قال أطلق لا يكون طلاقا إلا إذا غلب استعماله للحال فيكون طلاقا. ( الفتاوی الهندية ،كتاب الطلاق،الباب الثاني في إيقاع الطلاق بالالفاظ الفارسية ج:1، ص:452)

ولو قال أردت طلاقك لا يقع.( البحرالرائق ،كتاب الطلاق، باب الطلاق ،ج:3، ص: 438)  


فتویٰ نمبر : 7080/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں