بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

زندگی میں اپنی جائیداد کو ورثاء میں تقسیم کرنا


سوال

اگرایک آدمی  اپنی زندگی  میں  جائیداد کو اپنے ورثاء میں تقسیم کرنا چاہے اور اس کے ورثاء میں ایک بیٹا  اور ایک بیٹی شامل ہوں،تو تقسیم کا کیا طریقہ کار ہوگا؟

جواب

شریعت مطہرہ کی روسے اپنی زندگی میں اپنا مال یا جائیداداولاد میں تقسیم کرنا ہبہ کہلاتا ہے ہبہ  میں اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ تمام اولاد میں تقسیم برابری کیساتھ کی جائے بلا معقول وجہ کسی کو کم اور کسی کو زیادہ نہ دیا جائے۔

صورت مسئولہ کے مطابق  اگر کوئی آدمی اپنی زندگی میں جائیداد کو اولاد میں تقسیم کرنا چاہتا ہو تو  برابری کے ساتھ تقسیم کرے۔ تاہم اگر کسی کو زیادہ نیک ، صالح اور باادب ہونے کی وجہ سےیا کسی کے معذور ہونے کی وجہ سے  اس کو  کچھ زیادہ حصہ  دیا جائے تو اس کی اجازت ہے۔ نیز لڑکے کو لڑکی سے دگنا دینے کی بھی گنجائش ہے۔

 

وينبغي للرجل أن يعدل بين أولاده في النحلى لقوله سبحانه وتعالى{إن الله يأمر بالعدل والإحسان} وأما كيفية العدل بينهم فقد قال أبو يوسف العدل في ذلك أن يسوي بينهم في العطية ولا يفضل الذكر على الأنثى، وقال محمد العدل بينهم أن يعطيهم على سبيل الترتيب في المواريث للذكر مثل حظ الأنثيين.(بدائع الصنائع،کتاب الهبة،ج:8،ص:113)

يکره تفضيل بعض الأولاد علی البعض فی الهبة حالة الصحة إلا لزيادة فضل له فی الدين، وإن وهب ماله کله لواحد جاز قضاء وهو آثم... وفي الخلاصة المختار التسوية بين الذكر والأنثى في الهبة.(البحرالرائق ،کتاب الهبة،ج:7، ص:288،290)

(قوله وعليه الفتوى) أي على قول أبي يوسف: من ‌أن ‌التنصيف ‌بين ‌الذكر والأنثى أفضل من التثليث الذي هو قول محمد رملي.(ردالمحتار على الدرالمختار، كتاب الهبة، باب الرجوع في الهبة، ج:5،ص:696)


فتویٰ نمبر : 3668/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں