بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

زمین کسی کو اجارہ/مزارعت پر دینا


سوال

کیا اپنی ملکیتی اراضی کو اس طرح  ٹھیکے پر دینا کہ پورے سال کی اتنی رقم مجھے دے دو جو بھی فصل وغیرہ کاشت کرو گے سب تمہارا ہوگا یا زمین کسی  کو اس طو پر دینا کہ آپ  زمین میں کاشت کرو جو حاصل ہوجائے آدھا آپ کا ہوگا اور آدھا میرا ہوگا اس طرح معاہدہ کرنا درست ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہےکہ اگر کوئی شخص اپنی ملکیتی زمین کسی کو متعین مدت تک اجارہ پر دے اور اجرت متعین کرے تو اس طرح عقد کرنا شرعاً جائز ہے، اسی طرح کسی زمین کو اس طرح مزارعت پر  دینا کہ زمین ایک  کی ہو اور عمل، تخم اور  آلہ زراعت دوسرے شخص کی طرف سے ہو اور جو فصل حاصل ہوجائے اس میں دونوں کو مخصوص حصہ ملتا ہو تو اس طرح عقد مزارعت کرنا جائز ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر کسی نے اپنی ملکیتی زمین پورے سال کےلیے اجارہ پر دی ہو اوراجرت بھی متعین کی ہو تو یہ عقد اجارہ شمار ہوگا، اور اس طرح عقد کرنا جائز ہے، نیز دوسری صورت میں بھی اگر مالک کی طرف سے صرف  زمین ہو اور دوسرے شخص کی طرف سے عمل، تخم  اور ٹریکٹر وغیرہ کا خرچہ ہو اور جو فصل حاصل ہوجائے وہ ان کے درمیان آدھی آدھی ہو،تو  مزارعت  کی یہ صورت  بھی جائز ہے۔

 

قال: (وإن استأجر الأرض مدة معلومة بأجر معلوم ليترك الفضل فيها فذلك جائز) لأن ‌استئجار ‌الأرض صحيح إذا كان المستأجر يتمكن من استيفاء منفعتها والتمكن هنا موجود لاشتغالها بزرعه۔( المبسوط للسرخسي،  كتاب البيوع، ج: 12، ص: 194)

وإن كان الأرض لواحد والعمل والبقر والبذر لواحد جازت" لأنه استئجار الأرض ببعض معلوم من الخارج فيجوز كما إذا استأجرها بدراهم معلومة۔( الهداية، كتاب المزارعة، ج: 4، ص: 338)


فتویٰ نمبر : 3682/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں