بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

مقروض شخص کو زکوۃ دینا


سوال

ایک شخص جو کہ ڈاکٹر ہے اور اس کا اپنا کلینک ہے جہاں پر اس نے تین چار ملازم رکھے ہوئے ہیں اس کے علاوہ وہ اپنے والدین کے ساتھ ان کے گھر میں رہتا ہے۔ اس شخص نے لوگوں سے کچھ قرضہ لے کر ایک گاڑی لی ہے۔ ابھی اس کی آمدن اتنی نہیں ہے جس سے اس کے کلینک اور گھر کے خرچے نکال کر کوئی بچت ہو۔ اس لیے وہ فی الحال مقروض ہے۔ یہ شخص زکوۃ کے حوالے سے صاحب نصاب نہیں ہے۔ اس شخص کے پاس اپنی ملکیت میں اس گاڑی اور کچھ گھریلو سامان کے علاوہ کوئی چیز نہیں ہے۔ یہ کلینک بھی اس کے والد صاحب  نے بنائی ہے  جو کہ خود ایک ڈاکٹر ہیں، اس کے حوالے کیا ہے۔ کیا ایسے شخص کو زکوۃ کی مد میں اس کا قرضہ اتارنے کے لیے تین لاکھ روپے دیے جا سکتے ہیں؟

جواب

شریعت مطہرہ کی رو سے ہر اس شخص کو زکوۃ دینا جائز ہے جو صاحب نصاب نہ ہو ،اور  کوئی شخص اس وقت  صاحب نصاب شمارہوگا  جب اس کی ملکیت میں ساڑھے سات تولے سونا یاساڑھے باؤن تولے  چاندی،یا ان  میں سے ایک کے بقدر نقدی یاسامان تجارت،یاضروریات اصلیہ سے زیادہ سامان موجودہو ۔

صورت مسئولہ  کے مطابق اگر  مذکورہ شخص کے پاس بقدر نصاب مالیت نہ ہو ،اور مقروض بھی ہو تو اس کو زکوۃ دینا   جائز ہے ۔ البتہ  اگر وہ اپنی آمدنی سے قرض اتار سکتاہو تو بہتر یہ  ہے کہ کسی سے زکوۃ لینے کی بجائے اپنی کمائی سے ہی قرض ادا کرے ۔

 

ويجوز دفعها إلى من يملك أقل من النصاب وإن كان صحيحا مكتسبا كذا في الزاهدي.(الفتاوی الهندية،كتاب الزكوة، الباب السابع في المصارف،ج:1،ص:189)

(ومنها الغارم)وهو من لزمه دين،ولايملك نصابا فاضلا عن دينه... والدفع إلى من عليه الدين أولى من الدفع إلى الفقير.(الفتاوى الهندية،كتاب الزكوة،الباب السابع في الزكوة،ج:١،ص:١٨٨)

( ولا يجوز دفع الزكاة إلى من يملك نصابا من أي مال كان )لأن الغنى الشرعي مقدر به ، والشرط أن يكون فاضلا عن الحاجة الأصلية وإنما شرط الوجوب( ويجوز دفعها إلى من يملك أقل من ذلك وإن كان صحيحا مكتسبا) لأنه فقير والفقراء هم المصارف ، ولأن حقيقة الحاجة لا يوقف عليها فأدير الحكم على دليلها وهو فقد النصاب(فتح القدير، كتاب الزكوة،باب من يجوز دفع الصدقة اليه ومن  لايجوز،ج:4،ص:217)


فتویٰ نمبر : 10369/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں