بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

لڑکے کی اجازت کے بغیر اس کا شرعی حصہ مہر میں لکھنا


سوال

میرے والد صاحب نے میرے نکاح کے وقت  مہر دو تولے سونا اور میرے والد صاحب کے گھرمیں بیٹے کا حصہ بھی  لکھ دیا ،حالانکہ مجھے اس وقت تک پتہ بھی نہ تھا ،لیکن  میں اس وقت اسلئے خاموش رہا کہ عین نکاح کا وقت تھا ،تو کیا یہ مہر مقرر   کرنا درست ہے،اور  یہ ادا کون کرےگا؟

جواب

شرعی نقطہ نظر سے مقدار مہر کی تعیین ہو جائےتو مہر مسمی واجب ہوتا ہے ۔ نیز مہر کی ادائیگی  شرعا شوہر کے ذمہ لازم ہے لیکن اگر لڑکے کا باپ  بہو کیلئے اپنے مال یا جائیداد سے مہر کی ادائیگی کا ضمان قبول کرلے تو ایسی صورت میں بہو کیلئے شوہر یا اس کے باپ سے مہر کا مطالبہ کرنا جائز ہے ۔

صورت مسؤلہ  کے مطابق اگر نکاح میں مہر مقرر کرتے وقت دو تولے سونا  اور کے ساتھ "گھرمیں لڑکے کاحصہ "حق مہر قرار دیا جائے جبکہ گھر باپ  کی ملکیت میں ہو توچونکہ باپ کی زندگی میں اس کے گھر میں بیٹے کا کوئی حصہ نہیں اسی طرح یہ بھی معلوم نہیں کہ بیٹا باپ کے مرنے کے وقت زندہ ہوگا کہ وارث بنے لہذا گھر میں لڑکے  کاکسی بھی حصہ پر ملکیت متحقق  نہیں ،لیکن ملکیت نہ ہونے کے باوجود شرعا ًمہر  کی تعیین درست ہوسکتی ہے چنانچہ مہر مقرر کرتے وقت عرف میں ان الفاظ "لڑکے کا شرعی حصہ "سے بظاہریہ مطلب  ہوتا ہے کہ اگر اس وقت باپ کو مرحوم فرض کیا جائےتو جو حصہ گھر میں دیگر ورثا  کے ساتھ اس بیٹے  کو ملتا ہو وہ حصہ بہو کا حق مہر  ہوگا ایسی صورت میں  مہر کی تعیین  چونکہ  درست ہے لہذا مہر  مسمی واجب ہوگا ،البتہ  جب باپ نے یہ  مہر  خود مقرر کیا ہے تو یہ اس کی طرف سے ضمان کے قائم مقام ہے لہذا عورت اپنے شوہر کی طرح اس کے باپ سے بھی اس  مہر کا مطالبہ کر سکتی ہے ۔

 

 وإذا تزوجها على هذا العبد وهو ملك الغير أو على هذه الدار وهي ملك الغير فالنكاح جائز والتسمية صحيحة فبعد ذلك ينظر إن أجاز صاحب الدار وصاحب العبد ذلك فلها عين المسمى وإن لم يجز المستحق لا يبطل النكاح ولا التسمية حتى لا يجب مهر المثل وإنما تجب قيمة المسمى كذا في المحيط۔(الفتاوى الهندية،کتاب النکاح ،الباب السابع في المهر ،الفصل الاول ،ج1ص303)

( وصح ضمان الولي مهرها ولو ) المرأة ( صغيرة ) ولو عاقدا لأنه سفير( وتطالب أيا شاءت ) من زوجها البالغ أو الولي الضامن (فإن أدى رجع على الزوج إن أمر )۔(تنوير الابصار مع شرحه الدر المختار،كتاب النكاح ،باب المهر ج4ص286)


فتویٰ نمبر : 7076/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں