بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 27/10/2026 |
دارالافتاء
حالت تشہد میں امام کی اقتدا کرنے سے تشہد کا حکم
سوال
ایک آدمی نماز میں اس حالت میں شریک ہوا کہ امام چار رکعت والی نمازمیں پہلے قعدہ میں تھا، لیکن جیسے وہ شریک ہوا امام تشہد پڑھ کے کھڑا ہو گیا کیا اس شریک ہونے والے کو پورا تشہد پڑھنا چاہئے یا امام کے ساتھ کھڑا ہو جانا چاہئے؟
جواب
واضح رہے کہ اگر کوئی شخص تشہد کی حالت میں امام کی اقتدا کرے اور امام کےساتھ قعدہ میں شریک ہوتے ہی امام کھڑا ہوجائے تو اس پر تشہد پورا کرنا ضروری ہے، البتہ اگر تشہد پورا کرنے کی صورت میں دوسری رکعت کے فوت ہونے کا اندیشہ ہو تو امام کے ساتھ کھڑا ہو جائے تاکہ رکعت فوت نہ ہوجائے۔
صورت مسئولہ کےمطابق اگر کسی نے امام کی اقتدا اس حالت میں کی ہو کہ امام پہلےقعدہ میں تھا اور جیسے ہی اس نے اقتدا کی تو امام کھڑا ہوگیا تو یہ تشہد کو پورا کرے گا، البتہ تشہد پورا کرنے سے اگلی رکعت فوت ہوتی ہو تو اس کو چھوڑنا جائز ہے۔
(قوله فإنه لا يتابعه إلخ) أي ولو خاف أن تفوته الركعة الثالثة مع الإمام كما صرح به في الظهيرية، وشمل بإطلاقه ما لو اقتدى به في أثناء التشهد الأول أو الأخير، فحين قعد قام إمامه أو سلم، ومقتضاه أنه يتم التشهد ثم يقوم ولم أره صريحا، ثم رأيته في الذخيرة ناقلا عن أبي الليث: المختار عندي أنه يتم التشهد وإن لم يفعل أجزأه.( رد المحتار، باب صفة الصلاة، ج: 1، ص: 496)
إذا أدرك الإمام في السجود فلم يسجد معه السجدتين فإنه يقضي السجدة الثانية ما لم يخف فوت ركعة أخرى، فإن خاف ذلك تركها لأن هناك هو يقضي هاتين السجدتين ضمن قضاء الركعة فعليه أن يشتغل بإحراز الركعة الأخرى إذا خاف فوتها، وهنا لا يقضي التشهد بعدهذا فعليه أن يأتي ثم يتبع.( فتح القدیر، باب سجود السهو، ج: 1، ص: 497)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 330
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 247
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 903
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 456
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 113
- کتاب النکاح | فتاوئ : 577
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 497
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 478
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 103
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 325
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1201
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 389
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں