بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 09/09/2026 |
دارالافتاء
غیر قانونی طور پر گاڑی چلاکر کمائی حاصل کرنا
سوال
میں سعودی عرب میں مقیم ہوں،وہاں پر ٹیکسی کے لیے کمپنیاں ہیں، جو سواریوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتی ہیں،وہاں کے قانون کے مطابق اگر کوئی شخص اپنی ذاتی گاڑی میں سواریوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جائے ،تو پولیس والے اس کو پکڑتے ہیں اور اس ڈرائیور سے جرمانہ لیتے ہیں۔ میں فارغ اوقات میں وہاں غیر قانونی طور پر اپنی ذاتی گاڑی میں ٹیکسی کا کام کرتا ہوں ،کسی نے بتایا کہ یہ درست نہیں ہے۔ کیا ایسی جگہ میں غیر قانونی طور پر گاڑی چلا نا واقعی نا جائز ہے اور ابھی تک میں نے اس طرح گاڑی چلا کر جتنی کمائی کی ہے وہ میرے لیے حلال ہے یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ اگر کوئی ملک مفاد عامہ کی خاطر ایسا قانون بنائے جو شریعت سے متصادم نہ ہو تو اس کی پاسداری کرنا ضروری ہے اور اس کی خلاف ورزی کرنا کسی کے لیے شرعا جائز نہیں۔
صورت مسؤلہ کے مطابق اگر کوئی سعودی عرب میں مقیم ہو اور وہاں کمپنی کی گاڑی کے علاوہ ذاتی گاڑی میں سواریوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے کی اجازت نہ ہو، تو ایسی صورت میں ذاتی گاڑی میں سواریوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانا قانون کی خلاف ورزی ہونے کی وجہ سے جائز نہیں، ليكن پھر بھی اگر کوئی چھپکے سے گاڑی چلا کر منافع حاصل کرے تو وہ اس کے لیے حلال ہے۔
﴿وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُولًا ﴾ (الاسراء:34)
وأما طاعة السلطان فتجب فيما كان لله فيه طاعة، ولا تجب فيما كان لله فيه معصية.(الجامع الاحكام القرآن للقرطبي، النساء:59، ج:5، ص:249)
أن صاحب البحر ذكر ناقلا عن أئمتنا أن طاعة الإمام في غير معصية واجبة فلو أمر بصوم وجب.(رد المحتار على الدر المختار، كتاب القضاء، مطلب طاعة الامام واجبة، ج:5، ص:422)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں