بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/08/2026

دارالافتاء

 

ملازم كا كفيل كی کوئی چیز چھپکے سے بیچ کر اپنی تنخواہ وصول کرنا


سوال

سعودی عرب میں  بسا اوقات کفیل اپنے مزدوروں کی تنخواہ بغیر کسی وجہ سے روک دیتا  ہےاور  مزدوروں کے پاس اتنا اختیار نہیں ہوتا  کہ وہ اس سے زبردستی اپنی تنخواہ وصول کریں، مزدور مجبورہو کر تنخواہ کی مد میں اس کا سامان سیمنٹ، سریہ وغیرہ بیچ کر یا دوسرا طریقہ اختیار کر کے اپنا حق وصول کر سکتےہیں یا نہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کوئی شخص   کسی مزدور سے کوئی کام کرائے  اور وہ مقررہ کام مطلوبہ  طریقے سے مکمل کرے تو ایسا شخص مزدوری کا مستحق بن جاتا ہے، چنانچہ کام مکمل کرنے کے بعد کام کروانے والا قدرت  کے باوجود  مقررہ  وقت میں اجرت کی ادائیگی نہ کرے تو ايسا شخص حقوق العباد میں کوتاہی اور ظلم کا مرتکب ہوگا۔تاہم مزدور کو کام مکمل کرنے کے بعد مزدوری نہ دے تو اس کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اس کے خلاف قانونی کاروائی کرے ،لیکن اس کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ اس  کی کوئی چیز اس کی اجازت کے بغیر  بیچ  کر اپنی مزدوری حاصل کرے ۔  

صورت مسؤلہ کے مطابق اگر کفیل مزدورکی تنخواہ بغیر کسی عذر کے نہ دے اور مزدور   کی کو شش کے باوجود بھی  اس کو نہ ملے  تو مزدور کے لیے چھپکے  سے کفیل کا سامان بیچ کر  اپنی تنخواہ وصول کرنا جائز نہیں، البتہ مزدور اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی اختیار کر سکتا ہے۔

 

قال الله تعالى:﴿وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُوا بِهَا إِلَى الْحُكَّامِ لِتَأْكُلُوا فَرِيقًا مِنْ أَمْوَالِ النَّاسِ بِالْإِثْمِ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ﴾ .(البقرة:188)

عن همام بن منبه، أخي وهب بن منبه: أنه سمع أبا هريرة رضي الله عنه يقول:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (مطل الغني ظلم).(صحيح البخاری، کتاب الاستقراض و اداء الديون، باب مطل الغنی ظلم، رقم الحديث :  2270، ج:2، ص:845)

ولهذا كان للقاضي أن يقضي بها دينه من غير رضا المطلوب بحر. قلت: وهذا موافق لما صرحوا به في الحجر. ومفاده أنه ليس للدائن أخذ الدراهم بدل الدنانير بلا إذن المديون ولا فعل حاكم. (ردالمحتارعلی الدرالمختار،کتاب السرقۃ،ج6،ص:158)

‌لا ‌يجوز ‌لأحد ‌أن ‌يتصرف في ملك الغير بلا إذنه.(دررالحكام في شرح مجلة الاحكام، مادة:96، ج:1، ص:96)


فتویٰ نمبر : 6073/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں