بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

بیوہ کی دوسری شادی کے بعد بچیوں کی حضانت کا حکم


سوال

ایک آدمی کا انتقال ہو گیا ہے۔ اس کی دو بیٹیاں ہیں، ایک کی عمر۹ یا ۱۰ سال ہے، جبکہ دوسری بیٹی کی عمر۵ یا ۶ سال ہے۔ مرحوم کی بیوہ نے دوسری شادی ایک ایسے مرد سے کی ہے جو ان بچیوں کے لیے غیر محرم ہے۔ اور نانی بھی  کمزوری کی وجہ سے پرورش نہیں کرسکتی۔ اب ان بچیوں کی پرورش (حضانت) کا حق دادا اور دادی کو حاصل ہے یا شادی شدہ  ماں کو؟ براہ کرم رہنمائی فرمائیں۔

جواب

میاں بیوی کے درمیان علیحدگی کی صورت میں بیٹی کی پرورش کا حق نو سال کی عمر تک اس کی والدہ کو حاصل ہوتا ہے۔ تاہم کچھ ایسی صورتیں ہیں جن میں ماں کا حقِ پرورش ساقط ہو جاتا ہے، ان صورتوں میں سے ایک یہ ہے کہ بچی کی ماں کسی غیر محرم سے نکاح کر لے۔ ایسی صورت میں ماں کا حق پرورش ختم ہو جاتا ہے اور یہ حق نانی کو منتقل ہو جاتا ہے۔ اگر نانی  موجود نہ ہویاپرورش کی اہلیت نہ رکھتی ہو،یا پرورش سے انکار کرے تو پھر پرورش کا حق دادی کو ملے گا۔ اور نو سال کی عمر کے بعد بچی کی پرورش کا حق باپ کو حاصل ہوگا، اور اگر باپ موجود نہ ہو تو دادا کو یہ حق حاصل ہوگا۔

صورتِ مسؤلہ میں اگر واقعتاً بچیوں کی ماں نے کسی غیر محرم سے نکاح کیا ہو، تواس وجہ سے ان کا حق پرورش ساقط ہو چکا ہے۔ بڑی بیٹی جس کی عمر ۹ یا ۱۰ سال ہے، اس کی پرورش کا حقدار دادا ہوگا۔ جبکہ چھوٹی بیٹی جس کی عمر ۵ یا ۶ سال ہے، اس کی پرورش کی حقدارنانی ہے،لیکن اگر نانی پرورش سےانکار کرے، تو اس کی پرورش کا حق دادی کو ملے گا۔

 

أحق الناس بحضانة الصغير حال قيام النكاح أو بعد الفرقة الأم ... وإن لم يكن له أم تستحق الحضانة بأن كانت غير أهل للحضانة أو متزوجة بغير محرم أو ماتت فأم الأم أولى من كل واحدة، وإن علت، فإن لم يكن للأم أم فأم الأب أولى ممن سواها، وإن علت، كذا في فتح القدير (الفتاوى الهندية،کتاب الطلاق، الباب السادس عشر في الحضانة، ج:1، ص:541)

 (بلغت الجارية مبلغ النساء، إن بكرا ضمها الأب إلى نفسه )إلا إذا دخلت في السن واجتمع لها رأي فتسكن حيث أحبت حيث لا خوف عليها(وإن ثيبا لا) يضمها (إلا إذا لم تكن مأمونة على نفسها )فللأب والجد ولاية الضم لا لغيرهما كما في الابتداء بحر عن الظهيرية.قوله:( لا لغيرهما إلخ )الفرق أن الأب والجد كان لهما ولاية الضم في الابتداء، فجاز أن يعيداها إلى حجرهما إذا لم تكن مأمونة، أما غيرهما فلم تكن له ولاية الضم في الابتداء فلا تكون له ولاية الإعادة أيضا بحر عن الظهيرية.( ردالمحتار على الدرالمختار ،كتاب الطلاق،باب الحضانة ،ج:5،ص:268)


فتویٰ نمبر : 7077/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں