بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

آپریشن کے مریض کا غسل کے بجائے تیمم کرنا


سوال

میرے بھائی کی کمر کا آپریشن ہوا ہے جس میں 9 ٹانکے لگے ہیں ، زخم تقریباً ٹھیک ہوا ہے لیکن ابھی ٹانکیں نہیں نکالے ہیں، اور ڈاکٹر نے فی الحال نہانے سے منع  کیاہے، اب اگر اسے  نہانے کے بجائے تیمم کرنا پڑے ،تو کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کوئی شخص کسی عذر مثلا بیماری وغیرہ کی وجہ سے پانی کے استعمال پر قادر نہ ہو یعنی پانی استعمال کرنے کی صورت میں کسی عضو کے تلف (ضائع )ہونے یا بیماری کی زیادتی کا اندیشہ ہو،اور کسی ماہر دین دار ڈاکٹر نے نہانے سے منع کیا ہو ، تو ایسی صورت میں متبادل کے طور پر تیمم کرنے کی اجازت ہے ۔

صورتِ  مسئولہ  میں اگرغسل  کرتے وقت پانی  لگنے کی صورت میں مریض کے زخم بڑھنے کا اندیشہ ہو توغسل کے دوران اس حصے کو چھوڑ کر باقی جسم کو پانی سے دھولیا جائے، اور اس جگہ کوئی چیز باندھ دی جائے   یا کوئی ایسی تدبیر کرلی جائے   جس  سے  پانی نہ  پہنچے، اور ٹانکے لگے حصے  پر  گیلے ہاتھ سے صرف مسح کرلیا جائے ، اور اگر مسح بھی نقصان پہنچاتا ہو  تو مسح کو بھی چھوڑ دے،  غسل ہوجائے گا۔اور جب تک اس طرح  پانی  سے  غسل کرنا  ممکن ہو  کہ زخم سے متاثرہ جگہ محفوظ رہے تو تیمم کرنا جائز نہیں ہوگا، لیکن اگر کسی بھی طرح پانی کا استعمال  کرنا  نقصان دہ ہو تو  تیمم کرنا جائز ہوگا۔

 

"في أعضائه شقاق غسله إن قدر وإلا مسحه وإلا تركه ولو بيده، و لايقدر على الماء تيمم، و لو قطع من المرفق غسل محل القطع."

"(قوله: وإلا تركه) أي وإن لم يمسحه بأن لم يقدر على المسح تركه."(ردالمحتار على الدر المختار، كتاب الطهارة، سنن الوضوء، ج:1، ص:102)

"(قوله: أو لمرض) يعني يجوز التيمم للمرض وأطلقه، وهو مقيد بما ذكره في الكافي من قوله بأن يخاف اشتداد مرضه لو استعمل الماء فعلم أن اليسير منه لايبيح التيمم، وهوقول جمهورالعلماء إلا ماحكاه النووي عن بعض المالكية، وهومردود بأنه رخصة أبيحت للضرورة، ودفع الحرج، وهو إنما يتحقق عند خوف الاشتداد، والامتداد، ولا فرق عندنابين أن يشتد بالتحرك كالمبطون أوبالاستعمال كالجدري أوكأن لايجد من يوضئه،ولايقدربنفسه اتفاقًا۔ "(البحر الرائق، كتاب الطهارة، باب التيمم، شرائط التيمم، ج:1، ص:148)


فتویٰ نمبر : 10275/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں