بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

گیم کھیلنے کے ساتھ طلاق کو معلق کرنا


سوال

ہم چار بھائی ہیں،دو شادی شدہ اور دو غیر شادی شدہ ہیں۔ ہمارا ایک دوست کے ساتھ جھگڑا ہو گیا، جس کی وجہ سے ہم نے آپس میں وعدہ کیا اور قسمیں کھائیں اورہر ایک نے یہ کہا کہ" میں فلاں (جس کے ساتھ جھگڑا ہواہے) کے ساتھ گیم(کبڈی) نہیں کھیلوں گا اور نہ اس کے ساتھ گیم (کبڈی) کے لیے جاؤں گا، اگر میں فلاں (جس کے ساتھ جھگڑا ہواہے) کے ساتھ گیم کھیلوں گا تو مجھ پر اپنی بیوی طلاق ہوگی"۔ اور بہت سے لوگوں کو اس کی خبر بھی دی ہے کہ ہم میں سے ہر ایک بھائی نے فلاں کے ساتھ گیم (کبڈی) کھیلنے پر طلاق معلق کی ہے۔ لیکن کچھ دنوں پہلے ان کے ساتھ ہماری صلح ہو گئی ہے۔ تو پوچھنا یہ ہے کہ اگر ہم میں سے کوئی بھائی اس کے ساتھ گیم کھیلے گا تو طلاق واقع ہوگی یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کوئی شخص طلاق کو کسی شرط کے ساتھ معلق کرے تو شرط پائے جانے کی صورت میں طلاق واقع ہو جاتی ہے۔ پھراگر معلق طلاق ایک ہوتو ایک طلاق واقع ہوگی اور اگر زیادہ ہوں تو اسی کے مطابق واقع ہوں گی۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر سائل اور اس کے بھائیوں میں سے ہر ایک نے قسم کھا کر یہ کہا ہوکہ "اگر میں فلاں کے ساتھ گیم (کبڈی) کھیلوں گا، تو مجھ پر بیوی طلاق ہوگی"،توان میں سے جو بھی اس شخص کے ساتھ گیم(کبڈی) کھیلے گا، تواس کی بیوی کو ایک طلاق رجعی واقع ہوگی، البتہ عدت کے اندر اس کو رجوع کا حق حاصل ہوگا اوراگر عدت کے اندر رجوع نہیں کیا تو پھر تجدید نکاح کے بغیر میاں بیوی کی حیثیت سے اکھٹے نہیں رہ سکتے۔

 

وإذا ‌أضافه ‌إلى ‌الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق. (الفتاوى الهندية، كتاب الطلاق، الباب الرابع في الطلاق بالشرط، ج:1، ص:320)

وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها. (الهداية، كتاب الطلاق، باب الرجعة، ج:2، ص:254)

‌فالصريح ‌قوله أنت طالق ومطلقة وطلقتك فهذا يقع به الطلاق الرجعي " لأن هذه الألفاظ تستعمل في الطلاق ولا تستعمل في غيره فكان صريحا وأنه يعقب الرجعة بالنص " ولا يفتقر إلى النية " لأنه صريح فيه لغلبة الاستعمال " وكذا إذا نوى الإبانة " لأنه قصد تنجيز ما علقه الشرع بانقضاء العدة فيرد عليه. (الهدية، كتاب الطلاق، باب ايقاع الطلاق، ج:1، ص:225)


فتویٰ نمبر : 7069/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں