بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

عیدگاہ کی موقوفہ زمین میں میچ کھیلنا


سوال

 عید گاہ کی موقوفہ زمین میں میچ کھیلنے کے انتظامات کرنا کیسا ہے؟ اس زمین پر فی الحال نماز عید نہیں ہوتی،اورمیچ کھیلنےکی کوشش کی جارہی ہے لیکن اب تک روکا گیا ہے۔ کیا شرعی اعتبار سےعید گاہ کی موقوفہ زمین کو کھیل کے لیے استعمال کرنا جائز ہے؟

جواب

واضح رہے کہ واقف جس جگہ کوجس مقصد کے لیے وقف کرے،اس کواُسی مقصد کے لیے استعمال کرنا شرعاً لازم ہے۔ تاہم اگر موقوفہ جگہ کا اصل مصرف وقتی طور پر معطل ہو توایسی صورت میں اس جگہ کا ایساعارضی استعمال جس سے اصل مقصد فوت نہ ہوتا ہو،اور مستقبل میں اس جگہ کو اس کے اصل مقصد کے لئے استعمال کرنےمیں کوئی رکاوٹ بھی نہ بنتا ہو تو شرعا اس کی گنجائش ہے ۔ 

صورتِ مسؤلہ کے مطابق،اگرعید گاہ کی موقوفہ زمین میں عارضی طور پر کوئی ایسا تصرف کیا جائے،جس سے عید گاہ کا اصل مقصد فوت نہ ہوتاہو،تو اس کی گنجائش ہوگی،البتہ عیدگاہ کو میچ کے لیے مستقل میدان بنانااور اس کے انتظامات کرنا جائز نہیں کیونکہ اس سے وقف کے مقاصد فوت ہونے کا قوی اندیشہ ہے۔

 

ولا يجوز تغيير الوقف عن هيئته فلا يجعل الدار بستانا ولا الخان حماما ولا الرباط دكانا، إلا إذا جعل الواقف إلى الناظر ما يرى فيه مصلحة الوقف، كذا في السراج الوهاج.(الفتاوى الهندية،الباب الرابع عشر في المتفرقات،ج:2،ص:423)

 أنهم صرحوا بأن مراعاة غرض الواقفين واجبة.(رد المحتار عل الدر المختار،کتاب الوقف، ج:6 ، ص: 665)


فتویٰ نمبر : 6242/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں