بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

رمضان میں واجب اعتکاف ادا کرنے کا حکم


سوال

اگر کوئی شخص اعتکاف کی نذر مانے  کہ "میرا فلاں کام ہوجائے تو میں تین دن کا اعتکاف کرونگا" تو اس اعتکاف  کے ساتھ  روزہ رکھنا بھی واجب ہوتا ہے۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ  اگررمضان المبارک میں کوئی شخص یہی منذور تین دن اعتکاف کر لے  تو اس کے لیے رمضان المبارک  کے روزے کافی ہونگے  یا یہ اعتکاف غیر رمضان میں کرے گا ۔

جواب

واضح رہے کہ اگر کسی شخص نے رمضان میں اعتکاف کی نذرمانی ہو، تو وہ رمضان کے روزوں کے ساتھ اس نذر کو پورا کر سکتا ہے، کیونکہ رمضان کے روزے اس کے اعتکاف کے لیے کافی ہوں گے۔ لیکن اگر کسی نے رمضان کے علاوہ کسی اور مہینے میں یا مطلقاً اعتکاف کی نذر مانی ہو، تو اس صورت میں رمضان کے علاوہ دیگر دنوں میں روزے رکھ کراعتکاف کرنا ضروری ہوگا، رمضان کے روزے اس اعتکاف کے لیے کافی نہیں سمجھے جائیں گے۔

لہذا صورتِ مسئولہ کے مطابق، اگر کسی نے یہ کہا کہ "میرا فلاں کام ہوجائے تو میں تین دن کا اعتکاف کروں گا" اور اس سے مراد رمضان المبارک کے دنوں میں اعتکاف کرنا ہو، تو رمضان کے دنوں میں اعتکاف کرنے سے اس کی نذر پوری ہو جائے گی۔ تاہم اگر نیت رمضان کے علاوہ دیگر ایام میں اعتکاف کرنے کی ہو تو ایسی صورت میں رمضان کےعلاوہ دیگر ایام میں  روزے رکھ کراعتکاف کرنا ضروری ہوگا۔

 

‌لو ‌نذر ‌اعتكاف شهر ثم اعتكف رمضان لا يجزيه.(الفتاوى الهندية، كتاب الصوم، الباب السابع في الاعتكاف،ج:1،ص:211)

لو ‌أوجب ‌على ‌نفسه ‌اعتكاف شعبان فلم يعتكف حتى دخل رمضان فاعتكف لا ينوب ذلك عما وجب عليه من الصوم الذي هو شرط صحة الاعتكاف؛ لأن ذلك صار دينا عليه حقا لله تعالى بمضي الوقت، والدين يؤدى بما هو له لمن هو عليه لا بما عليه فكذا.(بدائع الصنائع، كتاب الصلاة، فصل في كيفية اداء سجدة التلاوة،ج:1،ص:190)

إذا قال: لله عليّ أن أعتكف شهراً بغير صوم، فعليه أن يعتكف شهراً، ويصوم فيه... قلنا: إذا نذر اعتكاف رجب إنما صح نذره؛ لأنه أضاف النذر بالاعتكاف إلى محل يقبل الصوم؛ لأنها محل تقبل الصوم بجهة الاعتكاف؛ لأن من شرط صحة الاعتكاف ذات الصوم لا الصوم بجهة الاعتكاف. قال عليه السلام: "لا اعتكاف إلا بالصوم" ولم يقل لا اعتكاف إلا بالصوم بجهة الاعتكاف، فلو أنه صام رمضان، ولم يعتكف كان عليه أن يقضي اعتكافه يعتكف شهراً آخر مكانه متتابعاً، ويصوم فيه... ‌كما ‌وجب ‌الاعتكاف ‌ديناً في الذمة وجب الصوم لأجل الاعتكاف ديناً، وكل صوم وجب ديناً في الذمة لا يتأدى بصوم رمضان.(المحيط البرهاني، كتاب الصوم، فصل الثاني عشرفي الاعتكاف،ج:2،ص:408،409)

‌ولو ‌قال: ‌لله ‌علي ‌أن ‌أعتكف ‌شهر ‌رمضان؛ يصح نذره ويلزمه أن يعتكف في شهر رمضان كله؛ لوجود الالتزام بالنذر فإن صام واعتكف فيه؛ خرج عن عهدة النذر.(بدائع الصنائع، كتاب الإعتكاف، فصل شرائط صحة الإعتكاف، ج:2، ص:112)


فتویٰ نمبر : 10276/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں