بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

زکوۃ کے مال سے جہیز خریدنا


سوال

ہمارے علاقے میں لوگ زکوۃ کی رقم سے لڑکی کو شادی  کا جہیز خرید کر دیتے ہیں اور نیت زکوۃ کی کرتے ہیں، کیا ایسا کرنے سے ان کی زکوۃ ادا ہو جائے گی یا نہیں؟

جواب

زکوۃ اور دیگر صدقات واجبہ کی ادائیگی جس طرح نقد رقم سےجائز ہے ۔اسی طرح کسی اور جنس مثلاً :اشیاء استعمال ، غذائی اجناس ، کپڑے لباس وغیرہ   زکوۃ  کی رقم سے خرید  کر مستحق زکوۃ  کو اس کا  مالک بنانے سے بھی ادائیگی ہو جاتی ہے ۔

صورت مسئولہ  میں اگر لڑکی زکوۃ کی  مستحق ہو تو مال زکوۃ  سے ساما ن جہیز خرید کر اس کو مالکانہ حیثیت سے دینے سے  زکوۃ دینے والےکا ذمہ  فارغ ہو  جائے گا۔

 

‌‌ ويشترط ‌أن ‌يكون ‌الصرف (تمليكا) لا إباحة كما مر۔ (ردالمحتار على الدرالمختار،كتاب الزكوة،ج:٣،ص:٢٩١)

ويجوز ‌دفعها ‌إلى ‌من ‌يملك ‌أقل من ذلك وإن كان صحيحا مكتسبا " لأنه فقير والفقراء هم المصارف ولأن حقيقة الحاجة لا يوقف عليها.( الهداية،كتاب الزكوة،‌‌باب من يجوز دفع الصدقة إليه ومن لا يجوز،ج:١،ص:١١٢)

أما الذي يرجع إلى المؤدى  فمنها أن يكون مالا متقوما على الإطلاق سواء كان منصوصا عليه أو لا من جنس المال الذي وجبت فيه الزكاة أو من غير جنسه ۔( بدائع الصنائع ،كتاب الزكوة ،فصل فيما يرجع الى المؤدى،ج :٢،ص:٤٦١)


فتویٰ نمبر : 10285/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں