بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

سلسل البول كےمریض کے کپڑوں کا حکم


سوال

مجھےسلسل البول کی بیماری ہے جس کی وجہ سے کپڑے ناپاک ہوجاتے ہیں، تو کیا  میں  ہر نماز کے لیے صاف کپڑے پہنوں  گا یا دھوں گا،یا انہی  کپڑوں کے ساتھ نماز ادا کروں؟

جواب

         شرعی نقطہ نظر سے نماز کی صحت کے لیے کپڑوں اور بدن کا پاک ہو نا ضروری ہے،البتہ معذور کے لیے شریعت میں گنجائش ہے۔لہذاسلسل البول کے مریض کی کیفیت اگر اس طرح ہو کہ  کپڑوں یا بدن  پر درہم  کی مقدار   سے زیادہ  بول پڑے اور اس کو دھونے کے بعد نماز سے فارغ ہونےسے پہلے پہلے پھرکپڑا نا پاک ہو جائے  تو شرعا اس کے لیے دھونا اور تبدیل کرنا ضروری نہیں، تاہم کپڑے یا بدن  دھونے کے بعد اگر اس کو ناپاک  ہو نے سے پہلےپہلے فرض نماز ادا کرنا ممکن ہو  تو اس صورت میں نجا  ست کا دھو نا لازمی ہے ۔

          صورت مسئولہ کے مطابق اگر  سائل کے کپڑوں کی صفائی ممکن ہو یعنی  کپڑے دھونے یا تبدیل کرنے کے بعدفرض  نماز کے دورانیہ میں کپڑے  پاک رہ سکتے ہوں   تو کپڑے دھو لے یا تبدیل کر لے۔لیکن اگر ایسا کر  نانا ممکن ہو  یعنی نماز کے دوران پھر نجس ہونے کاقوی خدشہ ہوتو ان کپڑوں کے ساتھ بھی نماز ہو جا تی ہے۔

 

(وصاحب عذر من به سلس) بول۔۔۔(وإن سال على ثوبه) فوق الدرهم (جاز له أن لا يغسله إن كان لو غسله تنجس قبل الفراغ منها) أي: الصلاة (وإلا) يتنجس قبل فراغه (فلا) يجوز ترك غسله، هو المختار للفتوی۔(ردالمحتارعلى الدر المختار،كتاب الطهارة،باب الحيض،ج:1، ص:506)

وإذا كان به جرح سائل وشد عليه خرقة فأصابه الدم أكثر من قدر الدرهم أو أصاب ثوبا فصلى، ولم يغسله إن كان غسله ينجس ثانيا قبل الفراغ جاز أن لا يغسله۔ (مجمع الانهرفي شرح ملتقی الابحر، كتاب الطهارة،ج:1،ص:57)


فتویٰ نمبر : 10270/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں