بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

بچہ آیت سجدہ پڑھے تو سننے والے پر سجدہ تلاوت کا واجب ہونا


سوال

اگر بچہ سبق یاد کرتے ہوئے بار بار آیت سجدہ پڑھے تو سننے والے بالغ پر سجدہ تلاوت واجب ہوگا یا نہیں؟

جواب

اگر کوئی بچہ آیت سجدہ تلاوت کرے اور بالغ شخص اس کو سن لے، تو اس پر سجدہ تلاوت کے واجب ہونے میں یہ تفصیل ہے کہ اگر تلاوت کرنے والا بچہ سمجھ دار ہے، تو اس کی تلاوت سننے سے سامع بالغ پر سجدہ تلاوت کرنا واجب ہوجائے گا، اور اگر وہ بچہ ناسمجھ ہو، تو اس کی تلاوت سننے سے بالغ پر بھی سجدہ تلاوت واجب نہیں ہوگا۔

 

"وتجب ... (على من كان) متعلق بيجب (أهلاً لوجوب الصلاة)؛ لأنها من أجزائها (أداء) كالأصم إذا تلا، (أو قضاءً) كالجنب والسكران والنائم، (فلا تجب على كافر وصبي ومجنون وحائض ونفساء قرءوا أو سمعوا)؛ لأنهم ليسوا أهلاً لها، (وتجب بتلاوتهم) يعني المذكورين (خلا المجنون المطبق) فلا تجب بتلاوته؛ لعدم أهليته۔

 (قوله: وتجب بتلاوتهم) أي وتجب على من سمعهم بسبب تلاوتهم. (قوله: يعني المذكورين) أي الأصم والنفساء وما بينهما (قوله: خلا المجنون) هذا ما مشى عليه في البحر عن البدائع. قال في الفتح: لكن ذكر شيخ الإسلام أنه لايجب بالسماع من مجنون أو نائم أو طير؛ لأن السبب سماع تلاوة صحيحة، وصحتها بالتمييز ولم يوجد، وهذا التعليل يفيد التفصيل في الصبي، فليكن هو المعتبر إن كان مميزاً وجب بالسماع منه وإلا فلا واستحسنه في الحلية"۔(ردالمحتار علی الدرالمختار، كتاب الصلوة، باب سجود التلاوة، ج:2، ص:580،581)


فتویٰ نمبر : 10269/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں