بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
دائیں جانب سے کام شروع کرنےکے متعلق حدیث
سوال
بچپن سے ایک حدیث سنتے آرہے ہیں کہ جوتا پہنے اور پاکی حاصل کرنے میں دائیں جانب سے شروع کرنا پسندیدہ عمل ہے، اسی طرح ایک حدیث میں یہ ہے کہ اگر کوئی چیز تقسیم کر ےتو دائیں جانب سے شروع کرے،تو کیا اس قسم کی روایتیں احادیث کی کتب میں موجود ہیں یا نہیں ؟
جواب
ہر اچھے کام کو دائیں طرف سے شروع کرنا جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ کی سنت اور پسندیدہ عمل ہے۔ صحیح بخاری میں "حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت ہےکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دائیں طرف سے شروع کرنے کو پسند فرماتے تھے۔جوتا پہننے ، کنگھی کرنے، پاکی حاصل کرنے میں اور سارے ہی احوال میں آپ ﷺ کو دائیں طرف سے شروع کرنا پسند تھا"
اسی طرح کوئی چیز تقسیم کرتے وقت دائیں طرف سے شروع کرنا پسندیدہ اور مسنون عمل ہے، جیسا کہ سنن أبی داؤد میں "حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دودھ لایا گیا جس میں پانی ملایا گیا تھا، آپ کے دائیں جانب ایک دیہاتی اور بائیں جانب ابوبکررضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ نوش فرمایا پھر دیہاتی کو (پیالہ) دیا اور فرمایاکہ دائیں طرف والا زیادہ حقدار ہے پھر وہ جو اس کے دائیں جانب ہو"
"عن عائشة، قالت: كان النبي صلى الله عليه وسلم يعجبه التيمن في تنعله وترجله وطهوره وفي شأنه كله"۔(الصحيح للبخاري، كتاب الوضوء، باب التيمن في الوضوء والغسل، رقم الحديث:168، ج:1،ص:45)
"عن أنس بن مالك، أن النبي صلى الله عليه وسلم، أتي بلبن قد شيب بماء، وعن يمينه أعرابي، وعن يساره أبو بكر، فشرب، ثم أعطى الأعرابي، وقال: الأيمن فالأيمن"۔(سنن أبي داؤد، كتاب الأشربة، باب في الساقي متى يشرب؟، رقم الحديث:3726، ج:2، ص:558)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں