بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

گریبان کھلا رکھنے کی شرعی حیثیت


سوال

گریبان کھلا رکھنا شرعا کیسا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے گریبان بند رکھنے کی تلقین فرمائی ہے ،ابواوفیٰ  رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:کہ" آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھا   ، ان کے بٹن کھلے تھے،تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود  اپنے ہاتھوں سے بند کئے" البتہ  بعض روایات سے کبھی کبھار گریبان کھلا رکھنا بھی  ثابت ہے،معاویۃ بن قرۃ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ:"میں مزینۃ   کے کسی قبیلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا،تو ہم نے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی   اس حال میں کہ آپ کا گریبان کھلا تھا "  اس لیےعام    معمول میں  گریبان  بند  رکھنا چاہیئے، البتہ کبھی کبھارگریبان کھلا رکھنے کی گنجائش ہے۔

 

عن أبي أوفى قال: دخلت على رسول الله صلى الله عليه وسلم مسجده ...ثم نظر إلى عثمان وكانت أزراره محلولة فزرها رسول الله صلى الله عليه وسلم [بيده] ثم قال: " اجمع غطفي ردائك على نحرك...الحديث"(معجم الصحابه للبغوي،ج:2،ص:529،حديث نمبر:908)

"عن  معاوية بن قرة ، نا أبي قال: «أتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم في رهط من مزينة، فبايعناه، وإن قميصه لمطلق الأزرار قال: فبايعناه، ثم أدخلت يدي في جيب قميصه فمسست الخاتم قال عروة: فما رأيت معاوية، ولا ابنه قط إلا مطلقي أزرارهما في شتاء ولا حر، ولا يزرران أزرارهما أبدا»."(سنن أبي داود،  کتاب اللباس، باب في حل الأزرار، ج:4،ص:97،98)


فتویٰ نمبر : 6083/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں