بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

منت مانی ہوئی چیز کو دوسرے گاؤں میں دینا


سوال

 ایک شخص نے نذر مانی ہےکہ اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے بیماری سے شفا نصیب کی تو میں اپنے گاؤں  کے غرباپر دو دیگ چاول صدقہ کروں گا۔ اب اللہ تعالیٰ نے  شفا نصیب کی ہے لیکن وہ اپنے ایک دوست کے گاؤں کے  غریب لوگوں کو دینا چاہتا ہے۔ تو  پوچھنا یہ ہے کہ کیا اپنی جگہ کے علاوہ دوسری جگہ کے لوگوں پر نذر مانی ہوئی صدقہ کرنے سے نذر پوری ہو جائے گی یا نہیں؟

جواب

اگر منذور چیز کسی جگہ کے لوگوں کے ساتھ خاص کی جائے تو یہ تخصیص لازم نہیں ہوتی، بلکہ دوسرے لوگوں کو بھی نذر مانی ہوئی چیز دینا درست ہوگا۔

صورت مسئولہ کے مطابق جب یہ نذر مانی ہوکہ" اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے بیماری سے شفا نصیب کی تو میں اپنے گاؤں کے غربا پردو دیگ چاول صدقہ کروں گا" اور اللہ تعالی نے شفانصیب کی، تو اب اگردوست کے گاؤں کے غریب لوگوں کونذردینا چاہے، تو اس سے بھی نذر ادا ہوجائےگی۔

 

رجل قال: ‌مالي ‌صدقة على فقراء مكة إن فعلت كذا فحنث وتصدق على فقراء بلخ أو بلدة أخرى جاز ويخرج عن النذر۔ (الفتاوى الهندية، كتاب الأيمان، الفصل الثاني في الكفارة، ج:2، ص:65)


فتویٰ نمبر : 10319/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں