بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

میاں بیوی میں علیحدگی کے بعد بچوں کی پرورش کی ذمہ داری


سوال

اگر میاں بیوی میں علیحدگی ہو جائے اور ان کے دو بیٹے ہوں ایک آٹھ سال اور دوسرا گیارہ سال کا تو ان کو پرورش کے لیے کس کے حوالے کیا جائے گا؟

جواب

واضح رہے کہ میاں بیوی کے درمیان جدائی کے بعد  لڑکا جب تک سات سال اور  لڑکی  نو سال  کی عمر تک نہ پہنچ جائے تب تک    ان کی پرورش کا حق ماں کو ہو گا،بشرطیکہ کہ وہ کسی ایسے  فسق و فجور میں مبتلا نہ ہو  جس سے بچوں کی تربیت متاثر ہونے کا خدشہ ہو  یا وہ بچوں کے ذی رحم محرم کے علاوہ کسی اور سے نکاح   نہ  کرے۔اور جب  لڑکے کی عمر سات سال اور  لڑکی کی عمر نو سال ہو جائے تو ان کی پرورش و تربیت کی ذمہ داری  کا حق باپ  کو  ہو گا۔

صورت مسئولہ کے مطابق   میاں بیوی کے درمیان علیحدگی کی صورت میں   دونوں بیٹے جن  میں ایک کی عمر آٹھ سال اور دوسرے کی عمر گیارہ سال ہے،ان دونوں کی پرورش و تربیت کا حق باپ کو ہو گا،لہذا یہ بچے پرورش و تربیت کے لیے  باپ کو حوالہ کیے جائیں گے۔

 

 (والحاضنة) أما أو غيرها (أحق به) أي بالغلام حتى يستغني عن النساء وقدر بسبع وبه يفتى لأنه الغالب۔۔۔بالصغيرة (حتى تحيض)  أي تبلغ في ظاهر الرواية (الدر المحتار على صدر رد المختار، باب الحضانة، ج:5، ص:268)

(قوله والأم والجدة أحق بالغلام حتى يستغني وقدر بسبع) ؛ لأنه إذا استغنى يحتاج إلى تأديب والتخلق بآداب الرجال وأخلاقهم والأب أقدر على التأديب والتعنيف... (قوله وبها حتى تحيض) أي: الأم والجدة أحق بالصغيرة حتى تحيض، وعن محمد أنها تدفع إلى الأب إذا بلغت حد الشهوة لتحقق الحاجة إلى الصيانة قال في النقاية وهو المعتبر لفساد الزمان، وفي نفقات الخصاف وعن أبي يوسف مثله، وفي التبيين وبه يفتى في زماننا لكثرة الفساد، وفي الخلاصة وغياث المفتي والاعتماد على هذه الروايات لفساد الزمان. فالحاصل أن الفتوى على خلاف ظاهر الرواية، واختلف في حد الشهوة، وقدره أبو الليث بتسع سنين وعليه الفتوى. ( البحرالرائق، كتاب الطلاق، باب الحضانة، ج:4،ص:287)

(تثبت للأم) النسبية (ولوبعد الفرقة إلا أن تكون مرتدة أو فاجرة أو غير مأمونة أو متزوجة بغير محرم) الصغير.(الدرالمختار على صدرردالمحتار، كتاب الطلاق، باب الحضانة، ج:5، ص:253 )


فتویٰ نمبر : 7068/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں