بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 12/08/2026

دارالافتاء

 

عورت پر شہوت کی نگاہ پڑنے سے حرمت مصاہرت


سوال

ایک ڈاکٹر مریضہ کے پاس ٹیکہ لگانے گیا،مریضہ کا حسن دیکھ کر شہوت پیدا ہوگئی،اب اس مریضہ کی بیٹی سے شادی کرنا چاہتا ہے، کیا یہ نکاح جائز ہے یا نہیں؟َنوٹ شہوت کے وقت انتشار آلہ یاد نہیں۔

جواب

واضح رہےکہ شہوت کے ساتھ دیکھنے سے حرمتِ مصاہرت  صرف اس وقت ثابت ہوتی ہے جب مرد عورت کی اندام ِنہانی کو شہوت کے ساتھ دیکھے، اس صورت میں اس مرد اور عورت کے اصول و فروع (والدین اور اولاد) ایک دوسرے پرحرام ہوجاتے ہیں ،لیکن اندامِ نہانی کے علاوہ دیگر اعضاء کوشہوت کے ساتھ دیکھنے سے حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوتی ۔

لہذا ڈاکٹرکا مریضہ کےاندامِ نہانی کےعلاوہ اس کے چہرے یاکسی دوسرےعضو کودیکھ لینےاورشہوت پیدا ہونے سےحرمت مصاہرت  ثابت نہیں ہوگی،اس لیےمریضہ کی بیٹی سے اس کا نکاح کرنا جائزہوگا،تاہم ڈاکٹر کےلیےایسے مواقع پراس طرح کا رویہ اپنانا ایک قبیح فعل ہے؛جس سے احتراز ضروری ہے۔

 

ولا تثبت بالنظر إلی سائر الاعضاء بشهوة،ولا بمس سائر الأعضاء إلا عن شهوة بلا خلاف.(بدائع الصنائع،کتاب النکاح،فصل فی المحرمات،وأما الفرقة الرابعة۔۔۔۔۔،ج:3،ص:423)

وكما تثبت هذه الحرمة بالوطء تثبت بالمس والتقبيل والنظرإلى الفرج بشهوة...والمعتبر النظر إلى الفرج الداخل هكذا في الهداية،وعليه الفتوى.(الفتاوى الهندية،كتاب النكاح،الباب الثالث في بيان المحرمات،ج:1،ص:339)

وفي المس والنظر إلى الفرج لا يفتى بالحرمة إلا إذا تبين أنه فعل بشهوة؛ لأن الأصل في التقبيل الشهوة بخلاف المس والنظر، كذا في المحيط.(الفتاوى الهندية،كتاب النكاح،الباب الثالث في بيان المحرمات،ج:1،ص:341)


فتویٰ نمبر : 7074/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں