بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

زکوٰۃکے پیسوں سےجہیزخریدنا


سوال

اگر کوئی زکوٰۃکے پیسوں سےکسی عورت کےلئےجہیزکاسامان خریدلےتوکیااس سےزکوٰۃاداہوجاتی ہے؟

جواب

واضح رہےکہ جہیزکاسامان معاشرہ اورشریعت کی روسےعورت کی ملکیت شمارہوتی ہےاوردونوں اعتبارسےاس کومستحسن اوراس کاحق شمارکیا جاتا ہے۔تاہم جہیزکی وجہ سےشادی نہ کرنا جاہلانہ رسم ہے ،زکوٰۃ کی ادائیگی میں بھی اصل بات تملیک(دوسرےکوزکوٰۃ کی رقم کامالک بنانا)ہے۔البتہ مستحق زکوٰۃکےحق میں جوطریقہ مفیداورزیادہ نفع دینے والا ہو ،زکوٰۃکی ادائیگی میں اس کواختیارکرنازیادہ بہترہے۔یہی وجہ ہے کہ زکوٰۃ کی رقم سےاگرکوئی چیزخریدی جائےاوروہ کسی مستحق کی ملکیت میں دی جائےتواس سےبھی زکوۃاداہوجاتی ہے۔

لہذاصورت مسؤلہ میں اگرمستحق زکوۃ لڑکی اصول وفروع میں سےنہ ہواوراس کےلیےزکوٰۃکی رقم سےجہیزکاسامان خریدکراس کومالک بنایاجائے تو اس سے زکوٰۃ ادا ہوجائےگی۔

 

عن علي رضي الله عنه قال: «جهز رسول الله صلى الله عليه وسلم فاطمة في خميل وقربة ووسادة حشوها إذخر». (سنن النسائي،کتاب النکاح،باب جھاز الرجل ابنته،رقم الحدیث :3386)

 ‌ويجوزدفعها ‌إلى من ‌يملك أقل من ذلك وإن كان صحيحا مكتسبا  لأنه فقيروالفقراء هم المصارف ولأن حقيقة الحاجة لا يوقف عليهافأديرالحكم على دليلها وهو فقد النصاب۔ (الهداية،کتاب البیوع،باب من یجوزدفع الصدقات الیه ومن لایجوز،ج:1،ص:224)

‌ويجزئه ‌أن ‌يعطي ‌من ‌الواجب ‌جنسا ‌آخرمن ‌المكيل ‌والموزون أوالعروض ‌أو ‌غير ‌ذلك ‌بقيمته۔ (المبسوط للسرخسي،کتاب الزکوٰۃ،باب العشر،ج:2،ص:203)


فتویٰ نمبر : 10267

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں