بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

کسی ایک شریک کا دوسرے شرکا کی طرف سے مشترکہ کاروبار کی زکوٰۃ ادا کرنا


سوال

 ہم پانچ بندوں نے اسکول کھول کر اس میں کینٹین بھی کھولا ہے، احمد اس کا انچارج ہے، اب احمد اس کی زکوۃ ادا کر سکتا ہے یا ہر ایک خود زکوة ادا کرے؟

جواب

واضح رہے کہ زکوٰۃ ہر شخص پر انفرادی حیثیت میں واجب ہوتی ہے، اس لئے  مشترکہ کاروبارمیں ہر شخص کو اپنے اپنے حصے کی زکوۃ ادا کرنی چاہیے، ایک شخص کا بقیہ شرکاء کی اجازت کے بغیرمشترکہ کھاتے سے زکوۃ ادا کرنا درست نہیں ، تاہم اگر تمام شرکاء اس بات پر اتفاق کرلیں کہ  کوئی ایک شریک تمام کی طرف سے زکوٰۃ ادا کردے،تو اس کی بھی گنجائش موجود ہے۔  

صورت مسؤلہ کے مطابق اگر احمداپنی زکوٰۃ کے ساتھ  ساتھ  بقیہ شرکا کی اجازت سے ان کی طرف سے بھی زکوٰۃ ادا کرلے،تو سب کی زکوٰۃ ادا ہو جائیگی۔

 

ليس لکل واحد من الشريکين أن يؤدي زکوٰة مال الأخر إلا باذنه".(الجوهرة النيرة، ج:1، ص:292)

"الخليطان في المواشي كغير الخليطين فإن كان نصيب كل واحد منهما يبلغ نصابا وجبت الزكاة، وإلا فلا سواء كانت شركتهما عنانا، أو مفاوضة، أو شركة ملك بالإرث، أو غيره من أسباب الملك، وسواء كانت في مرعى واحد، أو في مراع مختلفة، فإن كان نصيب أحدهما يبلغ نصابا، ونصيب الأٰخر لا يبلغ نصابا، وجبت الزكاة على الذي يبلغ نصيبه نصابا دون الأٰخر، وإن كان أحدهما ممن تجب عليه الزكاة دون الآخر فإنها تجب على من تجب عليه إذا بلغ نصيبه نصابا".(الفتاوى الهندية، كتاب الزكوٰة، مسائل شتى في الزكوٰة، ج:1، ص:181)


فتویٰ نمبر : 3674/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں