بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 09/09/2026 |
دارالافتاء
بیماری سے صحت یابی کی خاطر جانور ذبح کرنا
سوال
کیا بلاؤں یا پریشانیوں کو دورکرنے کے لیے جانور ذبح کرنا سنت سے ثابت ہے؟اور کیا یہ عقیدہ رکھنا درست ہے کہ جان کے بدلے جان کا فدیہ یعنی جانور ذبح کرنے پر بیماری ختم ہو جاتی ہے،یا روح نکلنے میں آسانی ہوتی ہے ؟
جواب
کتب احادیث میں کوئی ایسی صحیح حدیث نہیں ملی کہ جس میں بلاؤں یا پریشانیوں کو دور کرنے کے لیے جانور ذبح کرنے کا ذکر ہو البتہ چند روایات میں آفتوں سے بچنے کے لیے مطلقا صدقہ کرنے کا ثبوت ملتا ہے، چنانچہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہےکہ"صدقہ دینے میں جلدی کرو، اس لیے کہ مصیبت اس سے آگے نہیں جاتی"۔لہذا اگر پریشانیوں کو دور کرنے کے واسطے صدقے کی نیت سے جانور ذبح کردیا جائے اور اس کا کچا یا پکا گوشت غرباء ومساکین میں تقسیم کردیا جائے تو اس کی گنجائش ہے، البتہ اس مقصد کے لیے صرف جانور ہی کا صدقہ دینا ضروری نہیں ہے، بلکہ رقم وغیرہ بھی صدقہ کیا جاسکتا ہے۔
نیز جان کے بدلے جان کا فدیہ دینے سے بیماری اترجا نے یا روح نکلنے میں آسانی ہونے کا نظریہ کسی دلیل شرعی سے ثابت نہیں اس لیے ایسے نظریات سے گریز کرنا چاہئے۔
عن أنس، قال: " باكروا بالصدقة؛ فإن البلاء لا يتخطى الصدقة " موقوف... وروي عن أبي يوسف القاضي، عن المختار بن فلفل مرفوعا.(السنن الكبرى، باب فضل من أصبح صائما...، ج:4، ص:318، رقم الحديث،7831)
"وعن أنس قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: " إن الصدقة لتطفئ غضب الرب وتدفع ميتة السوء"
وقال الطيبي نقلا عن المظهر: أراد به ما تعوذ منها رسول الله - صلى الله عليه وسلم - في دعائه " اللهم إني أعوذ بك من الهدم، وأعوذ بك من التردي ومن الغرق والحرق والهرم، وأعوذ بك من أن يتخبطني الشيطان عند الموت، وأعوذ بك من أن أموت في سبيلك مدبرا، وأعوذ بك من أن أموت لديغا" ثم قال: ويجوز أن يحمل إطفاء الغضب على المنع من إنزال المكروه في الدنيا، كما ورد: لا يرد القضاء إلا الصدقة، وموت السوء على سوء الخاتمة ووخامة العاقبة من العذاب في الآخرة، كما ورد: الصدقة تطفئ الخطيئة، وقد سبق أنه من باب إطلاق السبب على المسبب، وقد تقرر أن نفي المكروه لإثبات ضده أبلغ من العكس، فكأنه نفى الغضب، وأراد الرضا، ونفى الميتة السوء، وأراد الحياة الطيبة في الدنيا، والجزاء الحسن في العقبى، وعليه قوله - تعالى -﴿ فلنحيينه حياة طيبة ولنجزينهم أجرهم بأحسن ما كانوا يعملون﴾ [النحل: ٩٧] (رواه الترمذي)۔"(مرقاة المفاتيح، باب فضل الصدقة، ج:4، ص:1341، رقم الحديث:1909)
(قوله والفارق) أي بين ما أهل به لغير الله بسبب تعظيم المخلوق وبين غيره، وعلى هذا فالذبح عند وضع الجدار، أوعروض مرض، أو شفاء منه لا شك في حله؛ لأن القصد منه التصدق حموي، ومثله النذر بقربان معلقا بسلامته من بحر مثلا فيلزمه التصدق به على الفقراء فقط كما في فتاوى الشلبي .(ردالمحتار على الدر المختار، كتاب الذبائح، ج:6، ص:309)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں