بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

آیت بھول جانے پر رکوع میں جانا


سوال

اگر کوئی شخص نماز کے اندر سورۃ فاتحہ پڑھنے کے بعد سورت میں سے کوئی آیت بھول جائے، اورفوراًركوع میں چلا جائے، تو کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ نماز میں قراءت کرنا فرض ہے، جبکہ پوری سورۂ فاتحہ پڑھنا، اور اس کے ساتھ کوئی ‏سورت یا تین چھوٹی آیتیں یا ایک بڑی آیت ملانا واجب ہے۔

لہٰذا  صورت مسؤلہ کے مطابق اگر  كوئی شخص سورۃفاتحہ پڑھنے کے بعد تین چھوٹی آیتیں یا ایک بڑی آیت قراءت کر چکا ہو اور پھر ‏بھول جانے پر رکوع میں چلا جائے تو اس کی نماز بلا کراہت درست ہوجاتی ہے، لیکن اگر ایک بڑی آیت یا تین چھوٹی آیتوں سے کم ‏پڑھ کر رکوع میں چلاجائے تو سجدۂ سہو واجب ہوگا۔

 

(‌وضم) ‌أقصر (‌سورة) ‌كالكوثر ‌أو ‌ما ‌قام ‌مقامها، ‌هو ‌ثلاث ‌آيات ‌قصار، ‌نحو ﴿‌ثم ‌نظر﴾ [‌المدثر: 21] ﴿ثم عبس وبسر﴾ [المدثر: 22] ﴿ثم أدبر واستكبر﴾ [المدثر: 23] وكذا لو كانت الآية أو الآيتان تعدل ثلاثا قصارا ذكره الحلبي... (قوله تعدل ثلاثا قصارا) أي مثل - ﴿ثم نظر﴾ [المدثر: 21]- إلخ وهي ‏ثلاثون حرفا، فلو قرأ آية طويلة قدر ثلاثين حرفا يكون قد أتى بقدر ثلاث ‏آيات، لكن سيأتي في فصل يجهر الإمام أن فرض القراءة آية وأن الآية عرفا ‏طائفة من القرآن مترجمة أقلها ستة أحرف ولو تقديرا كلم يلد إلا إذا كانت ‏كلمة فالأصح عدم الصحة اه ومقتضاه أنه لو قرأ آية طويلة قدر ثمانية عشر ‏حرفا يكون قد أتى بقدر ثلاث آيات. ‏

وقد يقال: إن المشروع ثلاث آيات متوالية على النظم القرآني مثل ﴿ثم نظر﴾ ‏‏[المدثر: 21] إلخ ولا يوجد ثلاث متوالية أقصر منها، فالواجب إما هي أو ما ‏يعدلها من غيرها لا ما يعدل ثلاثة أمثال أقصر آية وجدت في القرآن، ولذا قال ‏تعدل ثلاثا قصارا ولم يقل تعدل ثلاثة أمثال أقصر آية. على أن في بعض ‏العبارات تعدل أقصر سورة فليتأمل وسنذكر في فصل الجهر زيادة في هذا ‏البحث (قوله ذكره الحلبي) أي في شرحه الكبير عن المنية. وعبارته: وإن قرأ ‏ثلاث آيات قصارا أو كانت الآية أو الآيتان تعدل ثلاث آيات قصار خرج عن ‏حد الكراهة المذكورة يعني كراهة التحريم. قال الشارح في شرحه عن الملتقى: ولم ‏أره لغيره وهو مهم فيه يسر عظيم لدفع كراهة التحريم. اه.‏

قلت: قد صرح به في الدرر أيضا حيث قال: وثلاث آيات قصار تقوم مقام ‏الصورة وكذا الآية الطويلة اه ومثله في الفيض وغيره.‏ (الدر المختار، كتاب الصلاة، باب واجبات الصلاة، ج:1، ص:648)


فتویٰ نمبر : 10265/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں