بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

شراب ملی ہوئی دوا استعمال کرنا


سوال

ایک لڑکے کو جوڑوں کا مرض لاحق ہے، جس کی وجہ سے چلنے پھرنے میں دشواری ہوتی ہے اور تکلیف اور در دبھی رہتا ہے، یہ لڑکا نوجوان ہے، اس مہنگائی کے دور میں والدین اپنی وسعت کے مطابق جو اس کا علاج کروا سکتے تھے کیا، لیکن افاقہ نہیں ہوا ۔یہ بھی برحق ہے کہ اللہ تعالی نے کوئی بیماری ایسی پیدا نہیں کی جس کی دوانہ ہو یا شفاء نہ ہو سوائے موت کے، لیکن والدین جو کر سکتےتھے کیا اورجہاں جاسکتے تھے، ڈاکٹر یا حکیم سے علاج کروایا ،لیکن فرق نہیں پڑا۔اب معاملہ یہ ہوا کہ ایک حکیم سے اس بیماری کا علاج تجویز کروایا تو اس حکیم صاحب نے یہ علاج بتلایا ہے1۔ ایک کلو دیسی گھی گائے والا 2۔ ایک کلودیسی مرغے کا گوشت 3۔ ایک پاؤ شراب 4۔ کالانمک حسب ذائقہ ،ان تمام چیزوں کو ایک مٹی کی ہانڈی میں ایک ہی قسم کی لکڑی پر تین سے چار گھنٹے پکایا جائے اور مکسچر بنالیا جائے،پھر روزانہ مریض دو چائے کے چمچ دودھ کے ساتھ یہ دوا ( مکسچر ) استعمال کرےگا تو اس مریض کو فائدہ ہوگا۔

قرآن وسنت کی روشنی میں پوچھنا یہ ہے کہ آیا اس دوا کا استعمال جائز ہے یا نہیں ؟کیا اسکی  گنجائش کی کوئی صورت بن سکتی ہے ؟کیونکہ علاج تو دنیا میں بہت ہیں اور دنیا میں اس کے اور بھی اسپیشلسٹ، ماہر ڈاکٹر اور حکیم موجود ہیں،لیکن ان ڈاکٹروں  تک پہنچ کر علاج کروانا اور انکی فیس  ادا کرنا  ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔

جواب

واضح رہے کہ شراب کی حرمت  قرآن و حدیث سے ثابت ہے ، لہذا اس کو استعمال کرنا حرام و ناجائز ہے، نیز اس کے استعمال پر سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں،اس لیے عام حالات میں بطور دوااس کا استعمال نا جائز ہے،البتہ شدید ضرورت کےوقت چند شرائط کے ساتھ بطور دوا اس کے استعمال کی گنجائش ہے، وہ شرائط درج ذیل ہیں:

1  ۔مریض نا قابل برداشت تکلیف میں مبتلا ہو یا اس کی جان  جانے کا خوف ہو۔

2 ۔کوئی ماہر دیندار ڈاکٹر یہ کہہ دے کہ شراب کے استعمال کے علاوہ کوئی اور طریقہ علاج ممکن نہیں ہے۔

3۔شراب کے استعمال سے اس مرض کے صحیح ہونے کا یقین یا ظن غالب ہو۔

4 ۔بقدر ضرورت شراب استعمال کی جائے۔

صورت مسئولہ  کے مطابق   اگرمذکورہ لڑکا مرض  کی وجہ سے مستقل تکلیف میں مبتلا ہو ،تومذکورہ بالاشرائط کےمطابق بقدرضرورت شراب ملی ہوئی دوااستعمال کرنےکی گنجائش ہے،لیکن  متبادل جائزطریقہ علاج کی  کوشش مستقل  کی جائے،جب بھی جائزمتبادل دستیاب ہوجائےتومذکورہ بالاعلاج کو چھوڑ کرمتبادل کواختیارکرناضروری ہوگا۔ نیز خمر کا اطلاق چونکہ انگور اور کھجور  کے شراب پر ہو تا ہے ، جس کی حرمت  قطعی نصوص سے ثابت ہے  اور اس کی حرمت  میں  کسی کا اختلاف بھی نہیں ، اور انگور یا کھجور  کے علاوہ  دوسری چیزوں  سے بنائی گئی  شراب کی حرمت اس درجہ نہیں ، اس لیے  اگر دوا بنانے میں انگور یا کھجور سے بنی ہوئی شراب کے علاوہ  دیگر اشیا  سے بنی ہوئی شراب سے مقصد حاصل ہو سکتا ہوتو پھردوسری قسم کی  شراب کو ہی ملا کردوا بنائی جائے۔

 

﴿يٰاَيُّهَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْآ اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ اِنَّمَا يُرِيْدُ الشَّيْطٰنُ اَنْ يُّوْقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَآءَ فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَعَنِ الصَّلٰوةِ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَهُوْنَ﴾ [المائدة: 90، 91]

قوله: (لا للتداوي ولا لغيره) بيان للتعميم في قوله أصلا۔قوله: (عند أبي حنيفة) وأما عند أبي يوسف فإنه وإن وافقه على أنه نجس لحديث استنزهوا من البول إلا أنه أجاز شربه للتداوي، لحديث العرنيين وعند محمد يجوز مطلقا.

مطلب في التداوي بالمحرم: قوله: (اختلف في التداوي بالمحرم) ففي النهاية عن الذخيرة: يجوز إن علم فيه شفاءولم يعلم دواء آخروفي الخانية في معنى قوله عليه الصلاة والسلام:"إن الله لم يجعل شفاءكم فيماحرم عليكم "كمارواه البخاري أن مافيه شفاءلابأس به،كما يحل الخمرللعطشان في الضرورة، وكذا اختاره صاحب الهداية في التجنيس فقال: لو عرف فكتب الفاتحة بالدم على جبهته وأنفه جاءللاستشفاء وبالبول أيضا إن علم فيه شفاء لا بأس به، لكن لم ينقل، وهذا لان الحرمة ساقطة عند الاستشفاء كحل الخمر والميتة للعطشان والجائع ۔من البحر۔

وأفاد سيدي عبد الغني أنه لا يظهر الاختلاف في كلامهم لاتفاقهم على الجواز للضرورة ، واشتراط صاحب النهاية العلم لا ينافيه اشتراط من بعده الشفاء ولذا قال والدي في شرح الدرر : إن قوله لا للتداوي محمول على المظنون وإلا فجوازه باليقيني اتفاق كما صرح به في المصفى ۔أقول : وهو ظاهر موافق لما مر في الاستدلال ، لقول الإمام : لكن قد علمت أن قول الأطباء لا يحصل به العلم والظاهر أن التجربة يحصل بها غلبة الظن دون اليقين إلا أن يريدوا بالعلم غلبة الظن وهو شائع في كلامهم تأمل .(رد المحتار على الدر المختار، كتاب الطهارة، باب المياه، فروع التداوي بالمحرم، ج:1، ص: 210)


فتویٰ نمبر : 6020/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں