بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

ناجائز مقبوضہ زمین کو خریدنا


سوال

ہمارے علاقہ میں کچھ لوگ گورنمنٹ کی جگہ پر قبضہ کر کے اس کی خرید و فروخت کر رہے ہیں، کیا ان سے وہ جگہ خریدنا جائز ہے، جبکہ وہ زمین گورنمنٹ نے کسی کو الاٹ نہیں کی ہے؟ براہ کرم اس بارے میں شرعی حکم سے آگاہ فرمادیں۔

جواب

 واضح رہے  کہ کسی دوسرے  کی ملکیتی  زمین پر قبضہ کرنا شرعاً ناجائز اور حرام  ہے، حدیث مبارکہ میں اس پر بہت سخت وعید وارد ہوئی ہے، ایک حدیث میں  رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس شخص نے ایک بالشت برابر زمین بھی ظلماً لی (یعنی غصب کی)، قیامت کے دن اُسے سات زمینوں کا طوق ڈالا جائے گا۔ لہذا  دوسروں کی زمین پر قبضہ کرنے کے بعد  اس کو فروخت کرنا ناجائز ہے اور اس کے منافع بھی حلال نہیں ۔

صورت مسؤلہ کے مطابق  کسی کے لیے بھی مقبوضہ زمین کو خریدنا یا فروخت کرنا جائز نہیں ہے۔ 

 

"عن سعيد بن زيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:من أخذ شبراً من الأرض ظلماً، فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين".(الصحيح للمسلم، كتاب المساقاة، باب تحريم الظلم، وغصب الأرض، وغيرها، رقم الحديث: 4135)

 ومنها أن يكون مملوكا؛ لأن البيع تمليك، فلا ينعقد فيما ليس بمملوك ۔۔۔ وهو شرط انعقاد البيع للبائع أن يكون مملوكا للبائع عندالبيع فإن لم يكن لا ينعقد وإن ملكه بعد ذلك بوجه من الوجوه إلا السلم خاصة، وهذا بيع ما ليس عنده، ونهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيع ما ليس عند الإنسان، ورخص في السلم۔ (بدائع الصنائع ، کتاب البيوع، فصل: وأما الذي يرجع إلی المعقود عليه،ج:5، ص:147)

"لا يجوز التصرف في مال غيره بلا إذنه، ولا ولايته."(الدر المختار، كتاب الغصب، ج:1،ص: 618)


فتویٰ نمبر : 3673/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں