بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 24/08/2026 |
دارالافتاء
مسجد كے ليے وقف شده چٹائياں عيدگاه اور عوامی احتجاج میں استعمال کرنا
سوال
ہمارے علاقے میں عید کے دن نماز ادا کرنے کے لیے عیدگاہ پر مسجد کی چٹائیاں بچھائی جاتی ہیں، اسی طرح جب کسی کام کے لیے احتجاج کرتے وقت روڈ بلاک کرتے ہیں تو اس کے لیے بھی مسجد کی چٹائیاں لاکر بچھاتے ہیں اور اس پر بیٹھ کر احتجاج کرتے ہیں، اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا مسجد کی چٹائیاں عید کے دن عیدگاہ میں بچھا کر نماز ادا کرنا اور احتجاج کے وقت ان پر بیٹھ کر احتجاج کرنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ مسجد کے لیے وقف شدہ چیز کو مسجد کی ضروریات تک محدود رکھا جائے گا اسے مسجد سے باہرلے جاکر دوسری جگہ استعمال کرنے کی اجازت نہیں، البتہ اگر واقف نے وہ چیز وقف کرتے وقت اس کی اجازت دی ہو تو پھر اس کی گنجائش ہے کیونکہ وقف میں واقف کی لگائی ہوئی شرط شارع کے نص کی طرح ہے یعنی جس طرح شریعت کے نص پر عمل کرنا ضروری ہے اسی طرح واقف کی لگائی ہوئی شرط کی رعایت بھی ضروری ہے۔
صورت مسؤلہ کے مطابق عید کے دن نماز ادا کرنے کے لیے عید گاہ میں مسجد کی چٹائیاں استعمال کرنا اور اسی طرح کسی احتجاج کے لیے مسجد کی چٹائیاں استعمال کرنا جائز نہیں، لیکن اگر واقف نے وقف کرتے وقت اس کی اجازت دی ہو کہ عید کے دن اس کو عید گاہ میں بھی استعمال کیا جائے گا یا کسی اور ضرورت کے وقت اس کو مسجد سے باہر استعمال کیا جائے گا تو پھر گنجائش ہوگی۔
شرط الواقف كنص الشارع فيجب اتباعه كما صرح به في شرح المجمع للمصنف.(رد المحتار على الدر المختار،كتاب الوقف،ج:4،ص:490)
(فإذا تم ولزم لا يملك ولا يملك ولا يعار ولا يرهن)قال ابن عابدين: قوله(لا يملك) أي لا يكون مملوكا لصاحبه ولا يملك أي لا يقبل التمليك لغيره بالبيع ونحوه.(رد المحتار على الدر المختار، كتاب الوقف، مطلب في وقف المرتد والكافر، ج:4، ص:351)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں