بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

درزی کے پاس سوٹ سے اضافی کپڑے کا حکم


سوال

میں ایک درزی ہوں، کسٹمر سے سلائی کے سوٹ وصول کرتا ہوں، بعض اوقات کپڑے کی کٹائی کے بعد کپڑا بچتا ہےاور ہم سوٹ کے مالک کو واپس نہیں کرتے،  تو میں سوٹ کی سلائی کے بعد بچے ہوئے کپڑے سے چھوٹے بچوں کےلیے سوٹ تیار کرتا  ہوں، جب کہ میں سلائی کی اجرت پوری وصول کرتا ہوں؟کیا میرے لیے یہ اضافی کپڑا  لينا جائز ہے ؟

جواب

واضح رہے کہ اجیر مشترک کو جو چیز فراہم کی جاتی ہے کہ وہ اس میں صنعت کرکے اس سے کوئی اور چیز بنا دے، وہ اس کے پاس امانت ہوتی ہے،  لہذا صورت مسئولہ کے مطابق درزی چونکہ اجیر مشترک  ہوتا ہے اور اس کوسلائی کے بدلے الگ اجرت ملتی ہے، لہذا  کسٹمر اس کو سلائی کےلیے جوکپڑا دیتا ہے وہ اس کے ہاتھ میں امانت ہوتا ہے، کٹائی کے بعد جو کپڑا درزی کے پاس اضافی رہ جاتا ہےوہ مالک کی ملکیت ہوتی ہے، لہذا اس کی اجازت کے بغیر درزی کےلیے اس میں کسی قسم کا تصرف کرنا جائز نہیں، البتہ اگر کپڑے کی چھوٹے چھوٹے ٹکرے رہ جائیں جو عرف میں کوئی واپس نہیں لیتا تو اسے استعمال کرسکتے  ہیں۔

 

المشترك من لا يستحق الأجرة حتى يعمل كالصباغ والقصار"؛ لأن المعقود عليه إذا كان هو العمل أو أثره كان له أن يعمل للعامة؛ لأن منافعه لم تصر مستحقة لواحد، فمن هذا الوجه يسمى مشتركا ۔۔۔ قال: "والمتاع أمانة في يده. ( الهداية، كتاب الإجارة ، باب ضمان الأجير،ج: 3، ص: 243)

إنما تعتبر العادة إذا اطردت أو غلبت.( مجلۃ الأحكام العدلية، ‌‌المادة: 41)


فتویٰ نمبر : 6071/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں