بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

طلاق کو شرط پر معلق کرنا


سوال

ایک شخص نے اپنی بیوی سے اس بات پر جھگڑ ا کیا کہ وہ اپنی پوتی  کو ایک گھرانے میں دینا چاہتی تھی لیکن خاوند نہیں چاہتا تھا کہ اس گھرانے میں اس کی پوتی کا نکاح ہوجائے۔ خاوند نے بجائے، شخص کا نام لینے کے یہ  کہا کہ" میں نے فلاں علاقے میں پوتی دی تو میری بیوی میرے اوپر طلاق "۔بیوی نے ایک دوسرےشخص کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ شاید آپ اپنی پوتی اس شخص کو دینا چاہتے ہیں؟ تو اس شخص نے غصے میں کہا کہ "اگر میں نے اپنی پوتی فلاں علاقے میں بھی د ی تو میری بیوی میرے اوپر طلاق "۔اب کیا یہ شخص ان علاقوں میں اپنی پوتی نکاح میں نہیں دے سکتا یا ان  مخصوص اشخاص کو، جن کا میاں بیوی نے دوران جھگڑا نام لیا تھا؟ اور جن علاقوں  کا نام لیا ہے ،ان کا اطلاق کہاں کہاں تک ہوتا ہے؟

جواب

 اگر کوئی شخص طلاق کو کسی شرط کے ساتھ معلق کرے تو جب شرط پائی جائے  گی تو اس کی بیوی پر طلاق واقع ہو جائے گی۔

صورت مسئولہ میں  مذکورہ شخص ان مخصوص علاقوں میں اپنی پوتی کسی کے نکاح میں نہیں دے سکتا۔نیز اگر اس شخص کی  پوتی کا نکاح ان علاقوں میں ہو جائے جن کا اس نے تذکرہ کیا ہے ،تو اس کی بیوی پر ایک طلاق رجعی واقع ہو جائے گی ۔اور کسی علاقہ کے حدود  سے متعلق عرف کا اعتبار ہوگا یعنی جہاں تک لوگ  اس علاقہ کے حدود سمجھتے ہیں ،وہاں تک وہ علاقہ شمار ہوگا۔

 

"وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق."(الفتاوى الهندية، کتاب الطلاق، الباب الرابع في الطلاق بالشرط، ج:1، ص:420)


فتویٰ نمبر : 7088/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں