بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

تصویر کے سامنے نماز پڑھنے کا حکم


سوال

ہمارے سکول کے برآمدوں میں مختلف اشخاص کی تصاویر کے سائن بورڈ لگے ہوئے ہیں ،ہم سب اساتذہ اور طلبہ برآمدوں کےقریب میدان میں نماز    باجماعت ادا کرتے ہیں ،اب پوچھنا یہ ہے کہ برآمدوں میں جو تصویریں نمایاں ہیں ان کے سامنے نماز ادا  کرنا کیسا ہے ؟

جواب

فقہائے کرام نےتصاویر والی جگہوں میں نماز پڑھنے کو مکروہ کہا ہے اس لیے جس جگہ میں نماز کے دوران جاندار کی تصویر نمازی کے سامنے،اوپر،  دائیں یا بائیں ہو اور بڑی ہونے کی وجہ سے واضح نظر آتی ہو تووہاں نماز پڑھنا مکروہ ہےالبتہ اگر تصویراتنی چھوٹی ہوکہ واضح نظرنہ آتی ہو تو وہاں نماز پڑھنا مکروہ نہیں۔ اسی طرح اگر تصویر نمازی کے سامنے ہو تو اس کی کراہت اوپر،دائیں،بائیں اور پیچھے لگی تصویر سے زیادہ ہےاسی طرح دائیں طرف لگی تصویر کی کراہت بائیں اورپیچھے سے زیادہ ہےاور سب سے کم کراہت پیچھے لگی ہوئی تصویر کی ہے۔

لہذاصورت مسئولہ کے مطابق اگر برآمدےمیں لگی ہوئی تصویر یں اتنی بڑی ہو ں کہ واضح نظر آتی ہو ں تو ان کےسامنے نماذادا کرنا مکروہ ہے۔

 

‌ويكره ‌أن ‌يصلي ‌وبين ‌يديه ‌أو ‌فوق ‌رأسه أو على يمينه أو على يساره أو في ثوبه تصاوير وفي البساط روايتان والصحيح أنه لا يكره على البساط إذا لم يسجد على التصاوير وهذا إذا كانت الصورة كبيرة تبدو للناظر من غير تكلف، كذا في فتاوى قاضي خان ،ولو كانت صغيرة بحيث لا تبدو للناظر إلا بتأمل لا يكره۔۔۔وأشدها كراهة أن تكون أمام المصلي ثم فوق رأسه ثم يمينه ثم يساره ثم خلفه. هكذا في الكافي وفي التهذيب ولو كانت على وسادة منصوبة بين يديه يكره ولو كانت ملقاة على الأرض لا يكره۔(الفتاوى الهندية، كتاب الصلاة، الباب السابع: فيما يفسد الصلاة وما يكره فيها، ج:1، ص:166)


فتویٰ نمبر : 10278/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں