بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

غیر مسلم کا پیسہ مدرسہ کی تعمیر میں خرچ کرنا


سوال

اگر عیسائی کسی مدرسہ کی تعمیر کے لیے  پیسے دینا چاہے تو کیااس سے پیسے لینا اور مدرسہ کی  تعمیر میں لگانا جائز ہوگا یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ اگرغیر مسلم کسی دینی ادارے  کی تعمیر کے لیے  پیسے دے کر اپنے عقیدے کے مطابق  اچھا کام اور ثواب کا کام سمجھتا ہو اور یہ اندیشہ نہ ہو کہ وہ اس کے نتیجے میں کوئی غلط مقصد حاصل کریں گے، تو اس صورت میں غیر مسلم کا پیسہ دینی اداروں میں  استعمال  کرنا شرعا جائز ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگرعیسائی مدرسہ کی تعمیر کے لیے پیسے دے دے اور اس کے بدلے کسی غلط  مقصد کے حصول کا اندیشہ نہ ہو،تو اس کو مدرسہ  کی تعمیر میں خرچ کیا جا سکتا ہے۔

 

"شرط وقف الذمي أن يكون قربة عندنا وعندهم كالوقف على الفقراء أوعلى مسجد القدس"۔(ردالمحتار، کتاب الوقف،مطلب قد يثبت الوقف بالضرورة، ج:6، ص:524)

"وأما الإسلام فليس من شرطه فصح وقف الذمي بشرط كونه قربة عندنا وعنده"۔ (البحرالرائق،كتاب الوقف،ج:5،ص:316)


فتویٰ نمبر : 6077/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں