بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

بالغ ہونے کے بعد ختنہ کروانا


سوال

اگر کسی باپ نے بچپن میں اپنے بیٹے کاختنہ نہیں کرایا اب بیٹا بالغ ہو گیا ہے تو کیا بالغ ہونے کے بعد  بیٹے کا ختنہ کرانا ضروری ہے؟ کیا ختنہ کرانا سنت ہے یا فرض؟ نیز ختنہ کروانے کے لیے  ستر کھولنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہےکہ مردوں کے حق میں ختنہ کروانا سنت اور شعائرِ اسلام میں سے ہے ، یعنی اسلام کی مخصوص علامت اور پہچان ہے اس وجہ سے بالغ کا  ختنہ بھی ضروری ہے، اگر کسی آدمی کا ختنہ نہ ہوا ہو ،تو اول کوشش یہ ہونی چاہیے کہ خود ہی ختنہ کرےیا  شادی شدہ ہو تو بیوی کو طریقہ سکھا کر ختنہ کروائے ،بصورتِ دیگر کسی اور سے بھی ختنہ کرواسکتا ہے ۔ جہاں تک ستر کھولنے کا مسئلہ ہے تو ختنہ کے لیے ضرورت کے بقدر ختنہ کرنے والے کے سامنے ستر کھولناجائز ہے ۔

 

"قيل في ختان الكبير إذا أمكن أن يختن نفسه فعل وإلا لم يفعل إلا أن يمكنه أن يتزوج أو يشتري ختانة فتختنه وذكر الكرخي في الجامع الصغير ويختنه الحمامي كذا في الفتاوى العتابية"۔(الفتاوى الهندية، كتاب الكراهية، الباب التاسع عشر في الختان، ج: 5 ص: 260)

"(و) الأصل أن (الختان سنة) كما جاء في الخبر (وهو من شعائر الإسلام) وخصائصه (فلو اجتمع أهل بلدة على تركه حاربهم) الإمام فلا يترك إلا لعذر وعذر شيخ لا يطيقه ظاهر"۔(الدرالمختار ، كتاب الحظر والإباحة، ج: 7ص:213)

"ويجوز النظر إلى الفرج للخاتن وللقابلة وللطبيب عند المعالجة ويغض بصره ما استطاع، كذا في السراجیۃ"۔ (الفتاوى الهندية ، كتاب الكراهية ، الباب التاسع في النظر ، ج:5 ص:270)


فتویٰ نمبر : 6074/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں