بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 14/08/2026

دارالافتاء

 

مقروض سے قرض کے بدلے میں فریج لینا


سوال

میں نے ایک دوست کو متعین تاریخ تک واپسی کی شرط پر ستر ہزار روپے قرض دئے تھے، لیکن وہ واپس نہیں کرسکا اور اُس کے پاس یقینی طور پررقم بھی نہیں ہے۔اب وہ کہتا ہے کہ مجھے تیس ہزار مزید رقم دےدومجھےضرورت ہے، میں آپ کے لیے فریج کے دوکان سےاُدھار پر فریج خریدونگاجو میں آپ کو اس ایک  لاکھ روپے کے قرضہ کے بدلے میں دے دونگا ،اور مجھے یقینی طور پر فریج کی ضرورت بھی ہے۔ کیا یہ صورت جائز ہےیانہیں؟

جواب

واضح رہے کہ قرض خواہ کے  لیے قرض کے بدلے اصل رقم کا لینا یا اس کے بدلے میں رضامندی سے کوئی اور چیز لینا اور دینا جائز ہے۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر مقروض آپ کے لیے ایک لاکھ روپے کے عوض اُدھار پرفریج خرید کر آپ کو دے دے اورآپ رضامندی سے وہ فریج وصول کرےتو یہ صورت جائز ہے،جس سے آپ کا قرض بھی ادا ہو جائے گااور مقروض کا ذمہ بھی فارغ ہو گا۔

 

وإذا كان لرجل على رجل ألف درهم فصالحه منها على عبد بعينه فهو جائز.(المبسوط للسرخسى،كتاب الصلح،باب الصلح فى الدين،ج:21،ص:26)

ولو كان لرجل على رجل دراهم لا يعرفان وزنها، فصالحه منها على ثوب أو غيره فهو جائز.(ردالمحتار على در المختار،كتاب الصلح،فصل فى دعوى الدين،ج:12،ص:336)


فتویٰ نمبر : 3712/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں