بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

تبلیغی تشکیل میں قصر اور اتمام کا حکم


سوال

تبلیغ میں جب ہم چلے (40دن) کے لیے جاتے ہیں، تو جگہ کا نام ایک ہی ہوتاہے، لیکن وہاں بستیاں مختلف ہوتی ہیں  اور ان میں ہم سہ روزہ لگاتے ہیں، تو ہم ادھر پوری نماز پڑھیں گے یا سفرانہ؟ نیز تشکیل پندرہ دن سے زیادہ ہوتی ہے۔

جواب

واضح رہے کہ  اگر پندرہ دن یا اس سے زیادہ ایک ہی شہر یا گاؤں میں رہنے کی نیت ہو خواہ  محلہ اور کالونی ایک ہو یا مختلف، تو ایسی صورت میں پوری نماز ادا کی جائے گی، البتہ اگر ایک بڑے علاقے کی مختلف چھوٹی بستیاں ہوں اور  ہر بستی مستقل ہو ، تو ایسی صورت میں ہر بستی کا الگ الگ اعتبار ہوگا، لہذا اس صورت میں اگر ہر بستی میں پندرہ دن سے کم قیام ہو، تو قصر نماز پڑھی جائے گی اور پندرہ دن یا اس سے زیادہ قیام کی صورت میں نماز پوری پڑھی جائے گی۔

صورتِ مسئولہ میں اگر جماعت کی تشکیل کسی شہر یا  بڑے گاؤں میں ہوئی ہو، اور وہاں مختلف محلوں میں انہیں کام کرنا ہو،  اور پندرہ یا اس سے زیادہ دن اس شہر یا گاوں کے  حدود کے اندر اندر رہنے کا ارادہ ہو ، تو وہ مقیم ہوں گے،  لہذا  پوری نماز پڑھیں گے، چاہے مساجد کے مابین جتنا بھی فاصلہ ہو۔اور اگر الگ الگ بستیوں میں تشکیل ہو اور ہر  پندرہ دن سے پہلے  پہلے  بستی تبدیل کرکے دوسری ایسی بستی یا گاؤں میں جانا پڑتا ہو اور مقامی لوگوں کے ہاں بھی وہ بالکل علیحدہ  بستی شمار ہوتی ہو، تو  اس صورت میں چونکہ جماعت  کی اقامت ایک جگہ پر 15 دن کی نہیں ہے، اس لیے یہ جماعت مسافر ہوگی اور قصر نماز پڑھیں گے۔

 

"(وأما) اتحاد المكان: فالشرط نية مدة الإقامة في مكان واحد؛ لأن الإقامة قرار والانتقال يضاده ولا بد من الانتقال في مكانين وإذا عرف هذا فنقول: إذا نوى المسافر الإقامة خمسة عشر يوما في موضعين فإن كان مصرا واحدا أو قرية واحدة صار مقيما؛ لأنهما متحدان حكما، ألا يرى أنه لو خرج إليه مسافرا لم يقصر فقد وجد الشرط وهو نية كمال مدة الإقامة في مكان واحد فصار مقيما وإن كانا مصرين نحو مكة ومنى أو الكوفة والحيرة أو قريتين، أو أحدهما مصر والآخر قرية لا يصير مقيما؛ لأنهما مكانان متباينان حقيقة وحكما"۔ (بدائع الصنائع، كتاب الصلاة، فصل ما يصير به المسافر مقيما، ج:1، ص:98)


فتویٰ نمبر : 10262/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں