بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

ذاتی مکان بنانے کے لیے خریدے گئے پلاٹ پر زکوۃ


سوال

ایک شخص  نے موروثی پلاٹ بیچ  کراس کےبدلے میں دوسرا پلاٹ خرید لیا، لیکن اس میں تجارت کی نیت نہیں کی، بلکہ بچوں کےلیے خریدا ہے۔ اب اس ٹاؤن میں، جس میں پلاٹ ہے، اس پر 900روپے ٹیکس آتا ہے، اس وجہ سے اس کو فروخت کرنا چاہتاہے اوراس  کی جگہ دوسرا  پلاٹ لینے کاارادہ ہے، لیکن وہ بھی تجارت کی نیت سے نہیں خریدتا بلکہ  بچوں کے لیے اس میں گھر بنائے گا۔کیااس پلاٹ پر زکوۃ واجب ہوگی یا نہیں؟ 

جواب

اگرمکان یا پلاٹ تجارت کی نیت سےخریداجائے تو مال تجارت ہونے کی وجہ سےاس پر زکوۃواجب ہوگی،البتہ اگرذاتی ضرورت کےلیےخریدا جائےتواس پر زکوۃ واجب  نہیں ہوتی۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگرپلاٹ خریدتےوقت تجارت کی نیت نہ تھی تو اس پر زکوۃ واجب نہیں ہوتی البتہ فروخت کرنے کے بعدجب تک وہ پیسے موجود ہوں اور صاحب نصاب بننے کی تاریخ پر قمری سال گزر جائے تو اس پر زکوۃ واجب ہوگی  لیکن اگر سال پورا ہونے سے پہلے ان پیسوں سےتجارت کی نیت کے بغیر پلاٹ خریدے تو پھر زکوۃ واجب نہیں ہوتی ۔

 

 (تشترط نيّة التجارة) أي حالة الشراء فأما إذاكانت النيّة بعد الملك فلابد عن اقتران عمل التجارةبنيّتها...أن مجرد النيّة لاتعمل كما مرّ.( فتح القدير،كتاب الزكاة،باب زكوة المال،ج:2،ص:64)

(وأثاث المنزل ودور السكنى ونحوها) وكذا الكتب وإن لم تكن لأهلها إذا لم تنو للتجارة.( الدر المختار على صدر رد المحتار، كتاب الزكوة،ج:2،ص:265)


فتویٰ نمبر : 10284/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں